.

دوستان شام کا باغیوں کے لئے فوری امداد فراہمی کا فیصلہ

شامی معاملات میں ایران و حزب اللہ کے کردار کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں فرینڈز آف سیریا میں منعقدہ اجلاس میں شامی باغیوں کی فوری امداد کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اجلاس میں گیارہ ملکوں کے وزرائے خارجہ شریک تھے۔

شورش زدہ ملک شام کے صدر بشار الاسد کے مخالف مغربی اور عرب ملکوں نے مسلح مزاحمت کرنے والے باغیوں کی فوری امداد کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے فرینڈز آف سیریا کے اجلاس میں کیا گیا۔ اس اجلاس میں میزبان ملک قطر کے علاوہ مصر، فرانس، جرمنی، اٹلی، اردن، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات اور ترکی کے وزرائے خارجہ شریک تھے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویلے بھی اجلاس میں شرکت کے لیے قطر پہنچے ہوئے تھے۔

فرینڈز آف سیریا کے اجلاس میں شریک وزراء نے شام میں اسد حکومت کی وفادار فوج کے شانہ بشانہ لبنان کی انتہا پسند تنظیم حِزب اُللہ کے مسلح گوریلوں کے علاوہ ایران اور عراق سے بھی مسلح جنگجووں کی شرکت کی پر زور انداز میں مذمت کی۔ اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ نے اس کا مطالبہ کیا کہ ان ملکوں کے مسلح جنگجو فوری طور پر اپنے اپنے ملکوں کو لوٹ جائیں۔ فرینڈز آف سیریا کے اجلاس میں شریک گیارہ ملکوں کے وزراء اس پر بھی متفق ہوئے کہ شامی اپوزیشن کے باغیوں کو ضروری آلات اور سامان کی ترسیل ہر ملک اپنے طور پر کرے گا۔

فرینڈز آف سیریا کے اجلاس میں شامی مسلح تنازعے میں مذہبی فرقہ واریت کے ابھرتے پہلُو پر بھی خاصی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزراء کے مطابق اس باعث پیدا شدہ بیرونی مداخلت نے شام کے اتحاد کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں اور ایسا امکان بڑھ گیا ہے کہ یہ تنازعہ سارے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ وزراء نے شام میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی کے علاوہ افزائش پاتے انتہاپسندی کے رویوں پر بھی خاصے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب فرانس کے صدر فرانسوا اولانڈ ہفتے کے روز قطر پہنچ گئے ہیں۔ وہ قطری حکام کے ساتھ شام کے تنازعے کے علاوہ دوطرفہ تعلقات پر بھی بات چیت کریں گے۔ قطر پہنچنے کے بعد وہاں پر آباد فرانسیسی کمیونٹی کے افراد سے گفتگو کرتے ہوئے اولانڈ نے فرینڈز آف سیریا کے اجلاس میں شامی باغیوں کی فوری امداد کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد کی حمایت میں تسلسل پیدا ہونے کے علاوہ اسے قوت بھی حاصل ہو گی۔ اولانڈ کے مطابق اس کا امکان ہے کہ فریقین مجوزہ امن بات چیت میں شریک ہو کر مسلح تنازعے کا کوئی سیاسی حل حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ فرانسیسی صدر کا اشارہ روس اور امریکا کی مجوزہ امن کانفرنس کی جانب تھا۔