.

مظاہرین کے خلاف ضبط کا مظاہرہ کرنے پر ترک پولیس کی تعریف

وزیراعظم ایردوآن نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض یورپی ممالک کی تنقید مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے انسانی حقوق کے گروپوں اور بعض یورپی ممالک کی جانب سے تنقید کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ پولیس افسروں نے حکومت مخالف مظاہروں پر قابو پانے کے لیے لیجنڈری بہادری کا ثبوت دیا ہے۔

انقرہ میں سوموار کو پولیس اکیڈیمی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ ''پولیس نہیں بلکہ یہ مظاہرین تھے جو متشدد تھے''۔انھوں نے حکومت مخالف حالیہ مظاہروں کے دوران ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرنے پر سکیورٹی فورسز کی تعریف کی ہے۔

ترک وزیراعظم کے خلاف ملک کے سب سے بڑے شہر استنبول میں حکومت کے ایک مشہور چوک کے نزدیک مجوزہ تعمیراتی منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے اور یہ مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے ترکی کے متعدد چھوٹے بڑے شہروں میں پھیل گئے۔انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے) کے دس سالہ دورحکومت میں یہ پہلا موقع ہے کہ اسے اس طرح کے مظاہروں کا سامنا ہوا ہے۔

رجب طیب ایردوآن نے ان مظاہروں کوغیر ملکی سازش کا شاخسانہ قرار دیا تھا جس کا مقصد ان کے بہ قول ترکی کی معیشت کو نقصان پہنچانا اور اس کے بین الاقوامی امیج کو داغدار کرنا تھا۔

استنبول اور دوسرے شہروں میں دو ہفتے تک جاری رہے ان مظاہروں کے دوران ایک پولیس افسر سمیت چار افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ترک پولیس نے استنبول کے مشہور تقسیم چوک میں حکومت مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کریک ڈاؤن کیا تھا اور ان پر اشک آور گیس کے علاوہ پانی کا استعمال کیا تھا۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے ترک پولیس پر مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال کا الزام عاید کیا تھا۔