.

"نیا صدر درکار ہے" کی پیٹی پہننے پر مصری رُکن اسمبلی ایوان سے بیدخل

عبدالرحمان ھریدی کے اقدام سے ایوان مچھلی منڈی بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں صدر محمد مُرسی کی مخالفت میں پیش پیش حزب مخالف کے لیڈر ہر فورم پراپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے صدر سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران اس وقت صورت حال دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی جب عبدالرحمان ھریدی نامی رُکن اسمبلی "نیا صدر درکار ہے" کے مطالبے پر مبنی پیٹی گلے میں ڈال کر ایوان میں داخل ہوئے۔ مسٹر ھریدی کے اس اقدام پر ایوان میں موجود اخوان المسلمون کی سیاسی جماعت " آزادی و انصاف" کے ارکان نے سخت برھمی کا اظہارکیا۔ ھریدی کے اس اقدام پر صدر کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان سخت تلخ کلامی ہوئی۔

اسپیکر ڈاکٹراحمد فہمی نے عبدالرحمان ھریدی کی اس حرکت کو 'غیر شائستہ' قرار دیا اور اسے ایوان سے نکالنے کے لیے رائے شماری بھی کی۔ ووٹنگ کے دوران اکثریت نے ھریدی کے ایوان سے نکالنے کے حق میں رائے دی، تاہم ھریدی نے ایوان سے باہر جانے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد ایوان مچھلی منڈی بن گیا اور صدر کے حمایتی اور مخالف اراکین نے ایک دوسرے کی خوب درگت بنائی۔

معاملہ جب زیادہ بگڑنے لگا تو "آزادی و انصاف" سے تعلق رکھنے والے دو ارکان اسمبلی ناجی شہابی اور محمد محی الدین نے بیچ بچاؤ کرایا۔ ھریدی کے گلے سے متنازعہ پیٹی اتروا دی گئی، جس کے بعد وہ مخالفین کو کھری کھری سناتے ہوئے ایوان سے نکل گئے۔ ھریدی کے اجلاس سے نکل جانے کے بعد اخوان المسلمون کے حامی ارکان نے مطالبہ کیا کہ مسٹر ھریدی کی اس غیر شائستہ حرکت کا معاملہ ایوان کی انظباطی کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔

معاصر عزیز "الاھرام" کے مطابق ایوان سے نکلنے کے بعد عبدالرحمان ھریدی نے الزام عائد کیا کہ "آزادی و انصاف" کے ارکان نے ان پر حملہ کیا، ان کے گلے میں ڈالی پیٹی پھاڑنے اور پرتشدد کی کوشش کی۔ میں مزید انتشار سے بچنے اور ایوان کی عزت بچانے کی خاطر میں اجلاس سے نکل آیا۔

ھریدی کا مزید کہنا ہے کہ "مصر کو نیا صدر درکار ہے" کے الفاظ پر مشتمل پیٹی پہن کر میں نے کوئی غیرقانونی یا غیرپارلیمانی حرکت نہیں کی۔ ماضی میں اخوان المسلمون کے ممبران اسمبلی بھی ایسا کرتے رہے ہیں۔ سابق صدر حسنی مبارک کے دور میں اخوان کے کئی ارکان اپنے گلے میں" باطل باطل" کے الفاظ پر مبنی پیٹیاں باندھ کر آتے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری ایوان میں پیش آنے والے اس واقعے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹس پرتیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر مائیکرو بلاگرز ویڈیو پر بڑھ چڑھ کر تبصرے بھی کر رہے ہیں۔