.

افغانستان کے صدارتی محل پر طالبان کا حملہ

حملے کے علاقے میں وزارت دفاع اور صدارتی دفتر بھی واقع ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان دارالحکومت کابل کے وسطی علاقے میں منگل کو علی الصبح سولہ کے قریب دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق یہ حملہ طالبان عسکریت پسندوں نے کیا ہے، جس کا ہدف افغان صدارتی محل بھی تھا۔

کابل پولیس کے سی آئی ڈی سربراہ محمد ظاہر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 6:30 بجے شروع ہوا۔ اس نیوز ایجنسی کے ایک فوٹوگرافر کے مطابق یہ حملہ ایک ایسے علاقے میں ہوا ہے جہاں صدارتی دفتر اور وزارت دفاع کے علاوہ دیگر حکومتی دفاتر قائم ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹد پریس نے کابل پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس حملے کا نشانہ صدارتی محل تھا۔ اے پی کے مطابق طالبان نے اس حملے کی ذمہ قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدارتی محل پر خودکش حملہ کیا گیا ہے۔

رائیٹرز کے مطابق یہ معلوم نہیں کہ صدر حامد کرزئی محل میں موجود ہیں یا نہیں تاہم مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے کے بعد انہیں صدارتی محل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنا تھا۔ رائیٹرز نے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے کابل کے صحافیوں کو بھیجے گئے ایک پیغام کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق مجاہد نے پیغام میں کہا، ’’آج صبح ساڑھے چھ بجے خود کش حملہ آوروں نے صدارتی محل، وزارت دفاع اور آریانا ہوٹل پر حملہ کیا۔‘‘ آریانا ہوٹل کو امریکی انٹیلیجنس ادارے سی آئی اے کا کابل میں ہیڈ کوارٹر خیال کیا جاتا ہے۔ عینی شاہدین نے ہوٹل کی عمارت کے پاس سے دھواں اٹھتا دیکھا ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق کابل پولیس نے کہا ہے کہ تمام حملہ آور ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ حملہ آوروں کی تعداد تین سے چار بتائی جا رہی ہے۔

افغان حکام کے مطابق اس حملے میں صرف حملہ آور ہلاک ہوئے ہیں جب کہ طالبان کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں بہت سے مقامی اور غیر ملکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ حملہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب امریکا اور طالبان نے ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کی حامی بھر لی ہے اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کا دفتر بھی کھولا گیا ہے۔ افغان حکومت ان مذاکرات کے حق میں نہیں اور اس کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کی رہنمائی کا حق صرف افغان حکومت کو حاصل ہے۔