.

تیونس: انقلاب یاسمین کے محافظ فوجی سربراہ اپنے عہدے سے مستعقی

دہشت گرد گروپوں پر قابو پانے میں ناکامی پر تنقید کا ہدف رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں عوامی انقلاب کے محافظ اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل عمار رشید نے صدر جمہوریہ سے درخواست کی ہے کہ انہیں پیرانہ سالی کی وجہ سے ان کے عہدے سے سبکدوش کر دیا جائے۔ جنرل عمار اپنے استعفی کی منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ جنرل رشید عمار حالیہ چند دنوں میں اس تنقید کا سامنا کرتے رہے کہ ان کی زیر کمان فوج نے تیونس کے علاقے جبل الشعانبی اور اس کے نواح میں مورچہ زن دہشت گرد گروپ کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سستی دکھائی۔ جنرل رشید کے مطابق انہیں 14 جنوری 2011ء میں اس وقت صدر بننے کی پیشکش کی گئی تھی جب زین العابدین بن علی عوامی احتجاج کے ہاتھوں مجبور ہو کر ملک سے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ نامعلوم منزل کی جانب فرار ہو رہے تھے، تاہم انہوں نے یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

شورش زدہ علاقے الشعانبی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے جنرل رشید کا کہنا تھا کہ الشعانبی میں دہشت گرد گروپوں کا اکٹھ غیر فوجی حلقوں کی سستی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ اس ضمن میں انٹلیجنس کی کمزوری بھی بہت بڑا سبب رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد افراد الشعانبی کی 'محفوظ پناہ گاہ' میں رہے ہیں۔ یہ علاقہ پہاڑی سلسلے کا ستر فیصد حصہ بنتا ہے۔ اس کی حفاظت تیونس کی قومی فوج کی ذمہ داری نہیں ہے۔

جنرل رشید عمار نے بتایا کہ ان کا ملک صومالیہ کی طرز کے خطرات سے دوچار ہے کیونکہ متعدد جہادی تنظیمیں تیونس میں سرگرم ہیں۔ ان کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں خبردار کیا کہ مستقبل میں ہمیں ایسی تنظیموں سے خبردار رہنا ہو گا۔ ملکی سلامتی خطرے سے دوچار ہے۔ بہ قول جنرل رشید الشعانبی میں پناہ لینے والے دہشت گرد گروپ شاید حکومت کے خلاف انقلاب کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

انہوں نے ایسی تنظیموں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ان سے مقابلے کی خاطر یہی ہمارا ہتھیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تیونس کے صدر المنصف المرزوقی کو ملکی سیکیورٹی اور فوج پر مشتمل قومی انٹیلیجنس ادارہ بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔