.

قطر کے نئے امیر شیخ تمیم، خلیج کے سب سے کم عمر حکمراں

شیخ حمد ''جیسی کرنی ویسی بھرنی'' کے انجام سے دوچار ہونے سے پہلے سبکدوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے ایک نشری تقریر میں اپنے نوجوان بیٹے شیخ تمیم کو اقتدار منتقل کرنے کا اعلان کردیا ہے اور وہ خلیجی عرب ریاستوں کے سب سے کم عمر حکمراں بن گئے ہیں۔

نئے امیر قطرشیخ تمیم 1980ء میں پیدا ہوئے تھے۔اس وقت ان کی عمر صرف تینتیس سال ہے۔ وہ سبکدوش امیر قطرشیخ حمد کی دوسری بیوی شیخہ موزہ سے دوسرے بیٹے ہیں۔

انھوں نے برطانیہ سے تعلیم حاصل کی تھی اور وہ سندھرسٹ رائل ملٹری اکیڈیمی میں بھی زیر تربیت رہے تھے۔وہ ملک کا اعلیٰ منصب سنبھالنے سے قبل مسلح افواج کے ڈپٹی کماندار اور قطر کی نیشنل اولمپک کمیٹی کے سربراہ رہے ہیں۔وہ قطر میں 2022ء میں ہونے والے فٹ بال کے عالمی کپ مقابلوں کی سپریم کمیٹی کے چئیرمین بھی ہیں۔

خلیجی امور کے ماہر اور تجزیہ کار نیل پیٹرک کا کہنا ہے کہ ''قطر میں اقتدار کی منتقلی کے باوجود بڑی تبدیلیوں کی توقع نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ تمیم پہلے ہی خارجہ امور اور بعض دوسری ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''قطر کی خارجہ پالیسی میں کسی جوہری تبدیلی کی توقع نہیں ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو نئے نوجوان امیر اپنے والد کی مشاورت کے بعد ہی کوئی قدم اٹھائیں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ نئے امیر قطر اقتدار سنبھالنے کے بعد اب کابینہ میں ردوبدل کریں گے اور طاقتور وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم آل ثانی اپنے عہدے سے محروم ہوسکتے ہیں یا پھر ان سے وزارت خارجہ کا قلم دان واپس لیا جاسکتا ہے۔توقع ہے کہ کابینہ میں ردوبدل کے وقت نوجوان وزراء کو ملک کا نظم ونسق چلانے کی ذمے داری سونپی جائے گی۔

باسٹھ سالہ شیخ حمد 1995ء میں ایک پرامن بغاوت کے نتیجے میں برسر اقتدار آئے تھے اور انھوں نے اپنے والد شیخ خلیفہ کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔انھوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد تیل اور گیس کی دولت کو ملک کی تعمیروترقی کے لیے استعمال کیا ہے اور ان کے عہد اقتدار میں قطر نے نمایاں ترقی کی ہے۔

اس کے علاوہ شیخ حمد نے علاقائی تنازعات کو طے کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ ایک بین الاقوامی ثالث کار کے طور پر ابھرے ہیں۔انھوں نے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک اور لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریکوں کی بھرپور حمایت کی تھی اور اب کہ وہ شام میں جاری خانہ جنگی میں صدر بشارالاسد کے خلاف محاذ آراء باغیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں اور انھی کے دور حکومت میں افغانستان کے طالبان مزاحمت کاروں نے دوحہ میں اپنا دفتر کھولا ہے جہاں اب امریکا اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

شیخ حمد نے ملکی اور عالمی سطح پر اپنی ان کامیابیوں کے باوجود اپنے والد جیسے انجام سے دوچار ہونے سے پہلے ہی اقتدار اپنے نوجوان بیٹے کو منتقل کردیا ہے اور وہ عرب دنیا کے پہلے مطلق العنان حکمران ہیں جنھوں نے ایسا کیا ہے۔ورنہ عرب دنیا کے حکمران سالہا سال کے اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد بھی سبکدوش ہونے کا نام نہیں لیتے۔

واضح رہے کہ جزیرہ نما قطر دنیا میں گیس کے وسیع ذخائر کا حامل تیسرا بڑا ملک ہے اور وہ ہر سال اوسطاً سات کروڑ ستر لاکھ ٹن مائع قدرتی گیس پیدا کرتا ہے اور وہ دنیا میں گیس کا ایک بڑا برآمد کنندہ ملک ہے۔