.

سعودی وزارت محنت کا ویزہ ریگولرائزیشن کی مہلت میں اضافے کا مطالبہ

منظوری پر مہلت میں 3 ماہ کے اضافے کی توقع کی جا رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں لیبر قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ملکی اور غیر ملکی مزدوروں کی اصلاح کے لیے وزارت محنت و افرادی قوت نے اعلیٰ حکام سے مزید مہلت طلب کی ہے۔ سعودی وزارت لیبر کی جانب سے مزید مہلت کا مطالبہ عام لوگوں اور تربیتی مراکز کی جانب سے بڑے پیمانے پر موصول ہونے والی درخواستوں کی روشنی میں کیا گیا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں کی بڑھتی شکایات کے بعد ریاض حکومت نے رواں سال کے آغاز میں غیرملکی مزدوروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال اور دیگر کوائف کی چیکنگ شروع کی تھی۔ جانچ پڑتال کے دوران مزدوروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر قوانین کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب کی نشاندہی ہوئی تھی۔ بعد ازاں سعودی حکومت نے مزدوروں کے اصلاح احوال اور ان کے کوائف کے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے وزارت محنت کو تین ماہ کی مہلت دی تھی۔ یہ مہلت تین جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔

سعودی عرب کے معاصرعزیز اخبار"الوطن" نے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزارت محنت نے مزدروں کی اصلاح کی مدت میں اضافے کے لیے سفارش اعلیٰ حکام تک پہنچا دی ہے۔ توقع ہے کہ وزارت محنت کو مزید تین ماہ کی مہلت مل جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق وزارت محنت کی تین ماہ کی انتھک کوششوں کے باوجود تمام مزدوروں کے معاملات کو"کلیئر" نہیں کرایا جاسکا ہے۔ کئی دوسرے ملکوں کے سفیروں اور تاجروں نے بھی حکومت سے غیرملکی ملازمین کی سکروٹنی کے لیے مزید مہلت کی درخواست کی ہے۔

سعودی عرب میں ٹھیکداروں کی نمائندہ کمیٹی کے چیئرمین فہد الحمادی نے کہا کہ تین ماہ کی کوشش کے باوجود پاسپورٹ اور دیگر کاغذات کی درستگی کے خواہش مندوں کی ایک بڑی تعداد ملک میں اب بھی موجود ہے۔ لہٰذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ اعلیٰ حکام وزارت لیبر کومزید مہلت دے دیں گے۔ فہد الحمادی کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کے حکم کے پابند ہیں ورنہ ہم نے پہلے ہی یہ واضح کردیا تھا کہ تین ماہ کی مہلت ناکافی ہوگی اور مزدوروں کے تمام ضروری لوازمات اور کوائف کو مکمل کرنے کے لیے ہمیں مزید تین ماہ کی مہلت درکار ہوگی۔

درایں اثناء مدینہ منورہ کے ایوان صنعت و تجارت کی بورڈ آف ڈائریکٹر کے رُکن عبدالغنی حماد الانصاری نے انکشاف کیا ہے ملک میں سات لاکھ دکانیں اور تجارتی مراکز وزارت تجارت کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائے گئے ہیں۔ لیبرقوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کی جہاں اصلاح ہوئی ہے وہاں انارکی بھی پھیلی ہے جو قومی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کواصلاح کا کوئی ایسا طریقہ کار وضع کرنا چاہیے جس سے قومی معیشت کو نقصان نہ پہنچے۔ مسٹر حماد الانصاری نے تجویز دی کہ بے روزگاری کے خاتمے اور بڑے تجارتی اداروں کو قومیانے سے معیشت کے شعبے میں پیدا ہونے والی ابتری کو ختم کیا جاسکتا ہے۔