.

مصر: اپوزیشن اتحاد ملک میں قبل از وقت صدارتی انتخابات کے مطالبے پر قائم

صدر محمد مُرسی ملک چلانے میں ناکام رہے ہیں: البرادعی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد "نیشنل سالویشن فرنٹ" نے صدر محمد مرسی کی مذاکرات کی دعوت مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں قبل از وقت صدارتی انتخابات کے فوری اعلان کے سوا وہ کوئی دوسرا آپشن قبول نہیں کریں گے۔ اپوزیشن نے عوام سے پُرامن احتجاجی مظاہرے جارے رکھنے کی بھی اپیل کی۔

مصری اپوزیشن جماعتوں کے نمائندہ اتحاد کا اجلاس قاہرہ میں ہوا، جس میں شکست خوردہ سابق صدارتی امیدواروں اور اپوزیشن کے دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس کے دوران الدستور پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر محمد البرادعی نے اجلاس کے فیصلوں سے متعلق ایک بیان پڑھ کر سنایا۔

انہوں نے کہا کہ "صدر محمد مرسی نے گزشتہ روز قوم سے جو خطاب کیا وہ ملکی نظام چلانے میں ان کی ناکامی اور بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے"۔

ڈاکٹر البرادعی کا کہنا تھا کہ صدرمرسی کے قوم سے خطاب کے بعد ہم بھی فوری صدارتی انتخابات کے مطالبے پرڈٹ گئے ہیں۔ ہمیں انقلاب کے اہداف کو پورا کرنا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ملک میں"عدل اجتماعی" کا نظام قائم نہ کیا جائے۔ ہمیں صدر کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش قبول نہیں۔ وہ ہمارا مطالبہ مانیں اور ملک میں قبل از وقت صدارتی انتخابات کا اعلان کریں۔
انقلاب کے بعد پہلے صدارتی انتخابات میں شکست فاش سے دوچار ہونے والے ڈاکٹر البرادعی کا کہنا تھا کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ تیس جون کو ملک بھرمیں ہونے والے پرامن احتجاجی مظاہروں میں لاکھوں لوگ سڑکوں اور کھلے میدانوں میں حکومت کے خلاف جمع ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدرمرسی نے غلط پالیسیوں کے باعث انقلاب کے ثمرات کو تباہ کیا۔ ہم انقلاب کو صحیح سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹرالبرادعی نے کہا کہ اپوزیشن کے نمائندہ قومی سالویشن فرنٹ نے اجلاس میں اس بات پراتفاق کیا ہے کہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ملک کی فوری ضرورت ہیں۔ صدر ملک میں نگراں حکومت تشکیل دے کر اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔ عبوری دورکے بعد ہم ایک ایسی مضبوط حکومت کے قیام کی تشکیل کریں گے۔ جسے مضبوط معیشت، امن وامان اور سوشل جسٹس کی بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔ اگلے مرحلے میں ہم قوم کے تمام نمائندہ دھاروں کو ملا کرایک متفقہ آئین تشکیل دیں۔ یہی انقلاب کے بنیادی تقاضے ہیں۔

خیال رہے کہ مصرمیں حسنی مبارک کی مطلق العنانیت کو تیس سال تک برداشت کرنے والے سیاست دان صدر محمد مرسی کے ایک سالہ دور حکومت سے تنگ آگئے ہیں اور ان کے در پے ہیں۔ صدر نے اپوزیشن کو مذاکرات کی ایک بار پھر دعوت دی ہے لیکن شکست خوردہ امیدواروں نے اسے مسترد کردیا ہے۔