.

یو این سلامتی کونسل نے عراق پرعاید پابندیوں میں نرمی کر دی

اقوام متحدہ کا فیصلہ عراق اور عالمی برادری کے تعلقات میں تاریخی سنگ میل ہے: زیباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے عراق پر گذشتہ دوعشروں سے زیادہ عرصے سے عاید اقتصادی اوردوسری پابندیوں میں نرمی کر دی ہے جس کے بعد اسے قوموں کی برادری میں صدام حسین کی 1990ء میں کویت پر چڑھائی سے پہلے والامقام حاصل ہونے کی راہ ہموار ہوجائَے گی۔

اقوام متحدہ نے عراق کے سابق صدر صدام حسین کی فوج کی کویت کے خلاف جارحیت کے بعد یہ پابندیاں عاید کی تھیں اور یہ اقوام متحدہ کے باب سات کے تحت آتی ہیں۔ان پابندیوں کے مکمل خاتمے کے لیے عراق کو جنگ کے دوران کویت کے لاپتا ہونے والے افراد ،گم شدہ اثاثوں اور تاریخی آثار کو کویت کو واپس کرنا ہوں گے۔

اقوام متحدہ نے عراق کو جنگ کے ہرجانے اور فوجی چڑھائی سے ہونے والے تمام نقصانات کے ازالے کے لیے کویت کو باون ارب ڈالرز ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔عراق کے ذمے ابھی کویت کےجنگی ہرجانے کے طورپربائیس ارب ڈالرزواجب الاداہیں۔

عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے اقوام متحدہ کے فیصلے کو عراق اور عالمی برادری کے درمیان تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ انھوں نے عراق پر عاید پابندیوں کے خاتمے کے لیے کویت کی حمایت اور معاونت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خلیجی ریاست کے ساتھ تعاون میں اضافہ کیا جائے گا۔

جمعرات کو سلامتی کونسل میں منظور کردہ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ عراق چھے سو سے زیادہ کویتیوں کی رہائی اور لوٹی گئی جائیداد کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری رکھے لیکن وہ اس مقصد کے لیے فوجی طاقت کا استعمال نہیں کرے گا۔درایں اثناء عراق نے دو سو چھتیس لاپتا کویتیوں کے ملنے کی اطلاع دی ہے۔

کویت پرچڑھائی کے بعدعراق کواقوام متحدہ کی مختلف پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔ سلامتی کونسل نے صدام حسین کے تحت عراق پرخفیہ جوہری ،کیمیائی اورحیاتیاتی ہتھیاروں کے پروگرام میں ممکنہ استعمال ہوسکنے والے کیمیکلز اور جوہری ٹیکنالوجی کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی۔

یادرہے کہ امریکا کی قیادت میں ایک فوجی کارروائی کے بعدعراق کی فوج کو1991ء میں کویت سےنکال باہرکیا گیا تھا۔اس کے بارہ سال کے بعدمارچ 2003ء میں امریکا نے عراق پرچڑھائی کرکے صدام حسین کی حکومت کاخاتمہ کردیا تھا۔گذشتہ دوعشرے کے دوران عراق اقوام متحدہ کی مختلف پابندیوں کا شکار رہا ہے۔

گذشتہ سال فروری میں سلامتی کونسل نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ اگرعراق مختلف بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کردے تووہ اس پرعاید پابندیوں کو ختم کردے گی۔اس میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کے عراق کی جوہری تنصیبات کے معائنے سے متعلق ایک اضافی پروٹوکول بھی شامل ہے۔عراق اس پرپہلے ہی دستخط کرچکا ہے۔