.

ایران کے جوہری پروگرام پر پیش رفت جاری رہے گی: فریدون عباسی

نومنتخب صدر کے دور میں یورینیم افزودگی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ فریدون عباسی دیوانی نے کہا ہے کہ حالیہ صدارتی انتخابات میں اعتدال پسند حسن روحانی کے منتخب ہونے کے باوجود جوہری پروگرام پر پیش رفت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور ایران یورینیم افزودگی کے پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔

روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقدہ جوہری توانائی کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ''جوہری ایندھن کی تیاری کا کام ہمارے وضع کردہ خطوط کے مطابق جاری رہے گا اور جوہری ایندھن کی پیدوار کے لیے یورینیم افزودگی کا عمل جاری رہے گا''۔

انھوں نے بتایا کہ ''ایران کے واحد جوہری پاور پلانٹ نے تین روز قبل ہی آن لائن کام شروع کردیا ہے۔ وہ ایک ہزار میگاواٹ کی صلاحیت کے مطابق کام کررہا ہے اور اس میں کسی خرابی کا پتا نہیں چلا ہے''۔وہ بوشہر میں واقع روس کے تعمیر کردہ جوہری پاور پلانٹ کا حوالہ دے رہے تھے جس کو مئی میں اچانک کوئی وجہ بتائے بغیر بند کردیا گیا تھا۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ حسن روحانی کے بطور صدر انتخاب کے بعد کیا ایران یورینیم کو بیس فی صد تک افزودہ کرنے کا عمل روک دے گا؟اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مقصد بجلی پیدا کرنا اور میڈیکل آئسو ٹوپس کی تیاری ہے۔ان دو مقاصد کے لیے توانائی کی پیداوار کے عمل کو روکا نہیں جائے گا۔

ایرانی عہدے داروں کے اس موقف کے برعکس اہل مغرب یہ الزامات عاید کرتے چلے آرہے ہیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے بم تیار کرنا چاہتا ہے اور وہ اپنے تئیں ایران کو جوہری بم کی تیاری سے باز رکھنے کے لیے سفارتی سطح پر اقدامات کررہے ہیں اور اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ ،امریکا اور مغربی ممالک نے ایران پر ہمہ نوع پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔

یادرہے کہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل یوکی یا امانو نے نومبر 2011ء میں جاری کردہ اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور ڈیزائن کے قریب پہنچ چکاہے،وہ خفیہ طور پر ایسے تجربات کررہا ہے جن کا واحد مقصد جوہری ہتھیار تیار کرنا ہی نظرآتا ہے لیکن ایران نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ یہ امریکا کی جانب سے فراہم کردہ من گھڑت انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہے۔

تاہم آئی اے ای اے نے ایران کے اس موقف کو مسترد کردیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ اس نے مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی مدد سے یہ رپورٹ تیار کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق سرگرمیوں کوانجام دے رہا ہے۔ان شواہد میں بس کے حجم کے لوہے کے ایک کنٹینر کی بھی موجودگی کا انکشاف کیا گیا تھا۔اس کو مبینہ طور پرجوہری تجربات کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور آئی اے ای اے کی رپورٹ کے مطابق اس کی تصاویر سیٹلائٹ کی مدد سے حاصل کی گئی تھیں۔