.

شہزادہ نائف کے لیے بعد از وفات یو این کا اعلیٰ ترین اعزاز

فلسطینیوں کی بحالی اور امدادی پروگرام کے لئے خدمات کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے سعودی عرب کے سابق ولی عہد شہزادہ نائف بن عبد العزیز آل سعود (مرحوم) کی مظلوم فلسطینی عوام کی بہبود اور بحالی کے لئے خدمات کے اعتراف میں انہیں بعد از وفات یو این کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا ہے۔

العربیہ کے مطابق نیویارک میں قائم اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں سابق ولی عہد کی خدمات کی یاد میں ایک تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے مرحوم کی جنگ سے متاثرہ فلسطینی عوام کی بحالی، ان کے دیرینہ حقوق کی حمایت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مرحوم سعودی رہنما کی خدمات کو سراہا۔

بعد ازاں عالمی ادارے کی جانب سے شہزادہ نائف بن عبدالعزیز مرحوم کی خدمات کے اعتراف میں اعلیٰ ترین اعزاز عطا کرنے کا اعلان کیا گیا۔ سابق ولی عہد کی خدمات کے بدلے میں جاری ایوارڈ اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے وصول کیا۔

خیال رہے کہ مرحوم سابق ولی عہد پہلی عالمی شخصیت ہیں جن کے نام اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطینیوں کی امداد اور بحالی کا پروگرام شروع کرنے کے اعتراف میں یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔

شہزادہ نائف بن عبدالعزیز مرحوم نے سنہ 1975ء میں سعودی عرب میں وزارت داخلہ کا قلمدان سنھبالا۔ ستائیس اکتوبر2011ء کو اُنہیں شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد نائب وزیراعظم اور ولی عہد بھی منتخب کیا گیا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی شہزادہ نائف کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اندرون ملک دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر دہشت گردی کی روک تھام میں بھی مدد کی۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد ان کے درپے تھے۔ ان پرایک دہشت گرد تنظیم نے ناکام قاتلانہ حملہ بھی کیا تاہم وہ اس میں محفوظ رہے۔

گذشتہ برس وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہوئے۔ انہیں علاج کے لیے جنیوا لے جایا گیا جہاں وہ جون 2012ء کو 79 برس کی عمرمیں خالق حقیقی سے جا ملے۔