.

صدر مرسی اور اپوزیشن تشدد ترک کر کے مذاکرات کریں: اوباما

مصر میں امریکی مفادات کے تحفظ کی خاطر 200 میرینز ہائی الرٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے مصری ہم مںصب ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کے سیاسی مخالفین پر زور دیا ہے کہ وہ 'تشدد کی راہ ترک کر کے مذاکرات شروع کریں۔' صدر اوباما نے ڈاکٹر کو مخاطب کرتے ہوِئے کہا کہ وہ ملک کو 'تعمیری' انداز میں چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مصر کی صورتحال پر دکھی دل سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔

افریقی ملکوں کے دورے میں اپنے جنوبی افریقا میں قیام کے دوران ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے براک اوباما نے کہا کہ مصر میں استحکام کو لاحق خطرات ہمسایہ ملکوں تک پھیل سکتے ہیں۔

گزشتہ روز اسکندریہ اور پورٹ سعید میں ہونے والے ہنگاموں میں ایک امریکی شہری سمیت تین افراد کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت نے مصر میں اپنے سفارتی مشنز اور عملے کی حفاظت کے لئے بھرپور اقدامات اٹھائے ہیں۔

درایں اثناء امریکی وزارت دفاع 'پینٹاگان' نے مصر میں اتوار کے روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے موقع پر عسکری قیادت کے تیارکردہ ہنگامی منصوبے کے خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد مصر میں امریکی سفارتخانے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

نیز مصر میں مقیم امریکی شہریوں اور سفارتی عملے کا تحفظ بھی ہنگامی پلان کا اہم نکتہ ہے۔ مصر اخبار 'الیوم السابع' میں شائع ہونے والی منصوبے کی تفصیلات کے مطابق امریکی کسی ہنگامی صورت میں جنوبی یورپ میں اسٹیشن میرینز کو حرکت میں لائے گا۔ وہاں موجود وی ۔۲۲ طرز کے ہوائی جہاز ایک گھنٹے کے اندر فوج کی افرادی قوت مصر اتار سکتے ہیں۔ اس وقت اٹلی کے شہر سینجولیا میں تقریبا دو سو میرینز ہائی الرٹ ہیں۔

ادھر امریکی ٹی وی 'سی این این' کو بیان دیتے ہوئے امریکی فوجی ذرائع نے بتایا کہ ماضی میں بھی مصری شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے موقع پر ایسے ہی ہائی الرٹ کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس مجوزہ تیاری کو صرف اس صورت میں استعمال کیا جائے گا جب مظاہرین امریکیوں کے خلاف تشدد کی راہ اپنائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ اس وقت بحیرہ احمر میں تین امریکی لڑاکا جہازوں پر دو ہزار میرینز موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں فی الفور حرکت میں لایا جا سکتا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے بتایا کہ وہ گزشتہ برس لیبی شہر بنغازی میں رونما ہونے والے واقعے کو دہرانا نہیں چاہتے کیونکہ بنغازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے وقت اپنے عملے کو بچانے کے لئے کہیں قریب میں امریکی فوج موجود نہیں تھی۔ امریکی قونصل خانے پر بپھرے ہوئے شہریوں کے حملے میں امریکی سفیر سمیت متعدد دیگر سفارتکار ہلاک ہو گئے تھے۔