.

یمن کے علاحدگی پسند حوثیوں کو ایران میں تربیت فراہمی کا انکشاف

ایرانی مداخلت کے بارے میں صعناء کا احتجاج ہوا میں کافور ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صنعاء حکام نے انکشاف کیا ہے کہ یمن کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی یقین دہانی کے باوجود ایرانی پاسداران انقلاب جنوبی یمن کے علاحدگی پسندوں کو تربیت فراہم کر رہے ہیں۔

یمنی صدر کے سیکیورٹی و دفاعی امور کے مشیر میجر جنرل علی محسن نے صنعاء میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ایران، جنوبی یمن کے علاحدگی پسند اہل تشیع حوثی قبائل کو اپنے ہاں جنگی تربیت فراہم کر رہا ہے۔ حوثیوں کو یہ تربیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ عسکری ماہرین فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں اور ایرانی حکام کے درمیان براہ راست رابطے قائم ہیں۔ علاحدگی پسند گروپ اور قبائل مسلح تربیت کے لیے اپنے سیکڑوں جنگجو ایران بھیج رہے ہیں۔ حوثی نہ صرف ایران سے مسلح تربیت حاصل کرتے ہیں بلکہ انہیں ایرانی ساختہ زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل اور طیارہ شکن توپیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنوبی یمن کے سیاست دانوں نے اپنی صفوں میں پائے جانے والے اختلافات کا بھی اعتراف کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بعض گروہ ایران سے جنگی تربیت کے حامی ہیں۔ وہ تہران سے تربیت اور اسلحہ حاصل بھی کرتے ہیں جبکہ بعض کے براہ راست ایران سے روابط نہیں ہیں۔

علی سالم البیض کی تنظیم کے ایران سے براہ راست رابطے ہیں اور انہیں تہران سے بھرپور مدد بھی مل رہی ہے۔ خیال رہے کہ علی سالم البیض جنوبی یمن سے ملک کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

ادھر جنوبی یمن کے علاحدگی پسندوں کی نمائندہ سپریم کونسل کے سیکرٹری جنرل قاسم عسکر کا کہنا ہے کہ جنوبی یمن کی آزادی کے لیے لڑنے والے کچھ نوجوان ایران سے تربیت یافتہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی یمن کے آزادی پسند گروپوں کو شمالی یمن کے ساتھ اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے مالی اور عسکری مدد کی ضرورت رہتی ہے تاہم علاحدگی پسند حوثیوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے کچھ لوگ حوثیوں کے پاس بھی مدد کے لیے گئے لیکن ہم نے انہیں سختی سے منع کردیا ہے۔

قاسم عسکر نے انکشاف کیا کہ بیروت سے نشریات پیش کرنے والے باغیوں کے نمائندہ ٹی وی"عدن لائیو" میں کام کرنے والے صحافیوں اور دیگر ملازمین کو لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے ترجمان ٹی وی "المنار" کے عہدیداروں نے بھی تربیت فراہم کی ہے۔

یہی بات یمنی وزیراطلاعات علی العمرانی بھی کہہ چکے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں العمرانی کا کہنا تھا کہ حوثیوں کو بیروت میں ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران اور حزب اللہ کے لوگ بھی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیروت میں حوثیوں کی تمام سرگرمیاں حزب اللہ کے کیمپوں میں ہوتی ہیں اور وہیں پر ایرانی پاسداران انقلاب ان سے ملتے ہیں۔

درایں اثناء امریکی سینٹر جان مکین نے ایران کو جنوبی یمن میں مداخلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے یمن کی سلامتی کے لیے سخت خطرناک قرار دیا ہے۔ مسٹر مکین نے الزام عائد کیا کہ ایران علاحدگی پسند حوثیوں کی مدد کے ساتھ ساتھ جنوبی یمن میں سرگرم القاعدہ عناصر کی بھی مدد کر رہا ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سینٹر کا کہنا تھا کہ ہم جنوبی یمن میں القاعدہ کے خلاف لڑ رہے ہیں لیکن ایران کی وہاں پرمداخلت القاعدہ سے بڑا خطرہ ہے۔

خیال رہے کہ یمنی حکومت ایران پر ملک میں مداخلت اور علاحدگی پسندوں کی مدد کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ صنعاء نے متعدد مرتبہ ایرانی جاسوسوں کے کئی نیٹ ورک بھی پکڑ کرانہیں بطور شواہد پیش کیا ہے۔ گذشتہ برس ایران نے صنعاء کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے پڑوسی ملک میں کسی قسم کی مداخلت سے باز رہنے کا بھی عہد کیا تھا۔