صدر مرسی حکمرانی کا حق کھو چکے ہیں، نئے ملین مارچ کی کال

"اپوزیشن کا شو آف پاور اچھا تھا، لیکن زیادہ دیر نہیں چلے گا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری اپوزیشن کے رہنما صدر مرسی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے جلو سوموار کے روز ایک اہم اجلاس منعقد کرنے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن کے خیال میں بڑی تعداد میں عوام کی مظاہروں میں شرکت سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ صدر محمد مرسی حق اقتدار کھو چکے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر صدر مرسی نے منگل کے روز تک اقتدار نہ چھوڑا تو وہ صدارتی محل کے سامنے ایک نئے ملین مارچ کی کال دینے پر مجبور ہوں گے۔

اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل نیشنل سالویشن فرنٹ کے رہنما اور پیپلز پارٹی کے سربراہ حمدین صباحی نے گزشتہ روز ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ "اگر صدر مرسی عوامی امنگوں کا احترام کرتے ہوئے اقتدار سے الگ نہیں ہوتے تو فوج مداخلت کر کے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرے۔"

فرنسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے صباحی نے مزید کہا کہ اتوار کا دن مصری تاریخ کا اہم دن تھا کیونکہ اس روز عوام غیر معمولی تعداد میں باہر نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں صرف دو چیزوں پر عمل کر کے بہتری لائی جا سکتی ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ صدر مرسی عوامی جذبات کا احترام کریں اور خود اقتدار چھوڑ دیں کیونکہ عوام ان کے خلاف عظیم الشان مظاہروں میں اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ اگر صدر مرسی پہلی صورت ماننے سے انکاری ہوں تو انہیں طاقت کے ذریعے اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہم فوج سے اپنی فوجی روایات کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ فوج نے ہمیشہ مصری قومیت اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کی ہے۔ سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف 25 جنوری 2011ء کی تحریک میں فوج نے اپنے اس کردار کا مظاہرہ کیا تھا۔

درایں اثنا حکمران جماعت 'جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ' کے نائب صدر ڈاکٹر عصام العریان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اپوزیشن کے مظاہرے بڑے تھے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اپنی یہ طاقت اور اپنے کاز سے وابستی زیادہ دیر قائم نہیں رکھ سکے گی۔

مصری وزیر دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "عوام کے حوالے سے فوج کی قومی اور اخلاقی ذمہ داری اسی صورت میں برقرار رہ سکتی ہے جب تک وہ تشدد کی راہ اختیار نہیں کرتے اوراپنے داخلی تنازعے کو خانہ جنگی، فرقہ وارانہ فتنوں اور ریاستی اداروں پر حملوں سے دور رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں