اخوان کا ہیڈ کوارٹرز پر حملے کے جواب میں کارروائی کا اعلان

مظاہرین کے روپ میں بلوائی دفتر کا سامان لوٹ کر لے گئے، عمارت نذر آتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مسلح افراد نے حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے ہیڈ کوارٹرز پر دھاوا بولنے کے بعد اسے نذرآتش کردیا ہے اور مظاہرین کے روپ میں بلوائی وہاں سے سامان لوٹ کر لے گئے ہیں۔اخوان نے کہا ہے کہ بلوائیوں نے تشدد کی آخری حد عبور کر لی ہے اور وہ اپنے دفاع میں کارروائی کرے گی۔

اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد الحداد نے قاہرہ کے علاقے المقطعم میں مشتعل مظاہرین کے اپنے ہیڈکوارٹرز پر حملے کے بعد کہا ہے کہ ''مصری ان اس طرح کی کارروائیوں پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور نہ اپنے اداروں پر حملوں کو قبول کریں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ''معاشرے میں کسی ادارے کے لیے یہ بہت ہی خطرناک رجحان ہے کہ وہ تشدد کو تبدیلی کے لیے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرے کیونکہ اس سے دوسروں کو بھی اسی کی شہ مل سکتی ہے''۔

انھوں نے سکیورٹی فورسز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اخوان کے ہیڈ کوارٹرز کو تحفظ مہیا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ عوام اس حملے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے بعد بعض مظاہرین نے اخوان کے ہیڈ کوارٹرز پر دھاوا بول دیا تھا اور وہاں سے سامان اور فرنیچر لوٹنے کے بعد عمارت کو نذرآتش کردیا تھا۔اخوان کے ترجمان کے بہ قول قریباً ڈیڑھ سو بلواَئیوں نے ہیڈکوارٹرز پر دھاوا بولا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق عمارت پر مظاہرین کے پٹرول بموں سے حملے کے وقت اخوان کا کوئی کارکن دفتر میں موجود نہیں تھا اور انھیں وہاں سے نکال لیا گیا تھا۔اخوان کے ہیڈ کوارٹرز پر حملے کے دوران مسلح بلوائیوں کی فائرنگ سے دو افراد مارے گئے ہیں۔

گذشتہ روز محمد مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران بعض گروہوں نے ان کی سابقہ جماعت کے خلاف اپنے شدید جذبات کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس جماعت نے ان کے عوامی انقلاب کو ہائی جیک کر لیا ہے اور وہ اپنی انتخابی کامیابیوں کو اقتدار پر گرفت مضبوط بنانے اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے استعمال کررہی ہے۔

حکومت مخالف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد ایوان صدرکی جانب سے حزب اختلاف کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی پیش کش کی گئی ہے۔صدارتی ترجمان ایہاب فہمی نے العربیہ سے نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''ہم ڈائیلاگ کے ذریعے ہی کسی مفاہمت تک پہنچ سکتے ہیں۔ایوان صدر حقیقی اور سنجیدہ قومی مذاکرات کے لیے تیار ہے''۔فہمی نے مظاہرین پر زوردیا کہ وہ اپنے احتجاج کے دوران امن کو برقرار رکھیں اور مرسی مخالف مظاہروں کو مصر میں آزادیٔ اظہار کی ایک مثال بنادیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں