موریتانیہ کے سرکاری ٹی وی میں خاتون ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی

"بنت شیخانی کی تقرری سے خواتین کی حوصلہ افزائی ہوئی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مغربی افریقا کے مسلمان ملک موریتانیہ کے صدر محمد ولد عبدالعزیز نے اپنی ہی جماعت کی ایک خاتون رہ نُما کو سرکاری ٹیلی ویژن کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا ہے۔ صدر کے اس اقدام کو حقوق نسواں کے لیے سرگرم تنظیموں، ابلاغی اورعوامی حلقوں کی جانب سے سراہا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حکمراں جماعت "ری پبلک یونین" کی رکن خیرہ بنت شیخانی کی تقرری کا نوٹیفکیشن حال ہی میں جاری کیا گیا۔ چالیس سالہ مسزشیخانی اس سے قبل حکمران جماعت کی سیکرٹری کے عہدے پر بھی کام کرچکی ہیں۔

بنت شیخانی کی اس اعلیٰ عہدے پرتعیناتی کو عوام، انسانی حقوق کے حلقوں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کی جانب سے سراہتے ہوئے اسے ملک میں خواتین کی ترقی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ حقوق نسواں کے لیے سرگرم تنظیموں کا کہنا ہے کہ شیخانی کی تقرری سے ثابت ہوتا ہے کہ خواتین بھی امور مملکت اور دیگر اعلیٰ انتظامی عہدوں پرمردوں کے برابر کام کرسکتی ہیں۔

موریتانیہ میں خواتین صحافیات کی انجمن نے مسز شیخانی کی تعیناتی کو"تاریخی فیصلہ" قرار دیا ہے۔ ویمن جرنلسٹ نیٹ ورک کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بنت شیخانی کی اعلیٰ سرکاری عہدے پرتعیناتی سے ملک بھرکی خواتین بالخصوص تعلیم یافتہ لڑکیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شیخانی کی سرکاری ٹی وی کے "ڈی جی" کے طور پر تعیناتی سے ہمارا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا ہے۔ توقع ہے کہ حکومت خواتین کی بہبود کے لیے مزید اقدامات بھی کرے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران موریتانیہ کی پارلیمنٹ نے خواتین کا حکومت میں کوٹہ 20 فی صد سے بھی کم کر دیا تھا جس کے بعد پچیس رکنی کابینہ میں صرف دو خواتین کو وزارت کے قلمدان سونپے گئے تھے جبکہ ترمیم سے قبل خواتین وزراء کی تعداد کم سے کم چھ تھی۔ خواتین کے حکومت میں کوٹہ کم کرنے پرانسانی حقوق کے حلقوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک بھی شروع کر رکھی تھی۔ خیرہ بنت شیخانی کی سرکاری ٹی وی کے اعلیٰ عہدے پر تعیناتی کے بعد خواتین کی دم توڑتی امیدیں ایک مرتبہ پھر سانس لینے لگی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں