.

بھارت: سی آئی کے سابق اہلکار کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد

ایڈورڈ سنوڈن نے سیاسی پناہ کے لئے 21 ملکوں کو خطوط لکھے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی حکومت نے امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار، ایڈورڈ سنوڈن کی بھارت میں سیاسی پناہ درخواست مسترد کردی ہے۔ اِس بات کی تصدیق وزارتِ خارجہ کے ترجمان سید اکمل الدین نے کی ہے۔

منگل کے روز ایک بیان میں سید اکمل الدین کا کہنا تھا کہ "میں اس کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ ماسکو میں ہمارے سفارت خانے کو سنوڈن کی جانب سے 30 جون کا ایک مراسلہ آج موصول ہوا ہے، جِس میں بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست کی گئی ہے۔"

اًُن کے بہ قول، ’ہم نے درخواست کا بغور جائزہ لیا اور اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اِسے قبول کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے‘۔

اِس سے قبل، وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ بھارت نے ماضی میں لوگوں کو سیاسی پناہ دی ہے، لیکن اس بارے میٕں ہماری پالیسی بہت ہی محتاط اور معروضی ہے اور ایسا نہیں ہے کہ سیاسی پناہ کے لیے ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔

وکی لیکس کے مطابق، سنوڈن نے بھارت سمیت 20 ملکوں سے سیاسی پناہ دینے کی درخواست کی ہے۔ بھارت میں بڑی تعداد میں افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش ، سری لنکا، تبت اور برما کے شہری سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق سنوڈن کے معاملے میں وکی لیکس کی قانونی مشیر، سارہ ہیری سن نے 20 ملکوں میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے۔ سنوڈن نے خفیہ امریکی نگرانی کے پروگراموں کے راز فاش کیے ہیں اور مبینہ طور پر اب بھی ماسکو ہوائی اڈے کے ٹرانزٹ زون میں موجود ہیں۔ امریکی حکام روسی اہل کاروں پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ سنوڈن کو اُن کے حوالے کردیں۔

امریکہ نے کہا ہے کہ، ’سنوڈن کا پاسپورٹ رد کردیا گیا ہے۔ اُن کے معاملے پر غیر جانبدرانہ سماعت ہوگی۔ وہ اب بھی امریکی شہری ہیں اور اپنے تمام حقوق استعمال کرنے کے مجاز ہیں‘۔ واضح رہے کہ سنوڈن گذشتہ دِنوں ہانگ کانگ سے ماسکو پہنچے تھے۔