.

یورپی سیٹلائٹس پر ایران کے سرکاری ٹی وی چینلز دکھانے پر پابندی عائد

"العالم" اور "پریس ٹی وی" بھی پابندیوں کی زد میں آئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپ کی ایک بڑی سیٹلائٹس ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی"اینٹل سیٹ" نے ایران کے تمام سرکاری ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات دکھانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ "اینٹل سیٹ" کے ایک بیان میں کہا گیا کہ کمپنی فوری طور پر ایران کے تمام سرکاری ٹی وی چینلز کی نشریات غیرمعینہ مدت کے لیے بند کر رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یورپی سیٹلائٹ کمپنی کی جانب سے ایرانی ٹی وی چینلوں کے بائیکاٹ اور پابندی کے دائرے میں عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے "العالم" ٹی وی" اور انگریزی کا "پریس ٹی وی" بھی شامل ہے۔

قبل ازیں "پریس ٹی وی" نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ یورپی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نے باضابطہ طور پر ٹی وی کی انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے کہ کمپنی ایران کے تمام سرکاری ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات دکھانے پرپابندی عائد کر رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران کے سرکاری ٹی وی کے بائیکاٹ کا فیصلہ امریکا کی ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کا حصہ ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک نے ایرانی ریڈیو و ٹیلی ویژن کارپوریشن کے ڈائریکٹر عزت اللہ ضرغامی پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے باعث ان کی نگرانی میں چلنے والے سرکاری ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات بھی نہیں دکھائی جائیں گی۔

ایران کے سرکاری ٹی وی چینلوں پر پابندی کا فیصلہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ اس سے قبل بھی یورپ کے کئی دوسرے سیٹلائٹس بالخصوص"اینٹل سیٹ"، "ہاٹ برڈ" اور "یوٹل سیٹ" نے ایران کے اسپینی زبان میں نشریات پیش کرنے والے مقبول "ہیسپن ٹی وی" ، انگریزی کے "پریس ٹی وی" اور عربی کے "العالم" ٹی وی چینلوں کی نشریات دکھانے پر پابندی لگائی تھی۔

درایں اثناء ایران کے ریڈیو اینڈ ٹی وی کارپویشن کے ڈائریکٹر عزت اللہ ضرغامی نے یورپی سیٹلائٹس کی جانب سے ایران کے سرکاری ٹی وی چینلوں کے بائیکاٹ کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں مسٹر ضرغامی نے کہا کہ یورپی سیٹلائٹس پر ایران کے ٹی وی چینلوں کی نشریات دکھانے پرآج انیسویں مرتبہ پابندی لگائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ ہمارے ٹی وی چینلوں کی عوامی مقبولیت سےخائف ہے۔ عوامی مقبولیت کم کرنے کے لیے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس کے آغاز سے ایران پر اس کے متنازعہ جوہری پروگرام کے تسلسل کے باعث عالمی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے بعد تہران کا سرکاری میڈیا بھی متاثر ہوا ہے۔ عالمی پابندیوں کے جلو میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور ہسپانوی سیٹلائٹس کمپنیوں نے کئی بار ایران کے سرکار ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات پیش کرنے کا بائیکاٹ کیا ہے۔