.

یو اے ای: حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں 64 اخوانیوں کو قید کی سزائیں

وفاقی عدالت نے ملزموں کو 7 سے 15 سال کے درمیان جیل کی سزا سنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی وفاقی عدالت عظمیٰ نے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیے گئے چورانوے افراد میں سے چونسٹھ کو قصور وار قرار دے کر جیل کی سزائیں سنا دی ہیں اور ان میں سے پچیس کو بے قصور قرار دے کر بری کردیا ہے۔

فیڈرل سپریم کورٹ نے منگل کو اپنے فیصلے میں چورانوے میں سے چھپن مدعاعلیہان کو سات سے دس سال کے درمیان قید کی سزائیں سنائی ہیں۔آٹھ افراد کے خلاف ان کی غیر حاضری میں مقدمہ چلایا گیا ہے اور انھیں پندرہ، پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

باقی پانچ مدعاعلیہان کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کے ساتھ عدالت نے کیا معاملہ کیا ہے۔تمام مدعا علیہان نے عدالت میں اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کی تردید کی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل سالم قبیش نے فروری 2013ء میں کہا تھا کہ ان مدعاعلیہان کے خلاف ریاست کے سیاسی نظام کے منافی تحریک قائم کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

انھوں نے تب بتایا تھا کہ اس گروپ نے ایک خفیہ تنظیم قائم کی تھی اور اس کے بیرون ملک افراد اور اداروں کے ساتھ روابط رہے تھے۔ان میں مصر کی حکمراں جماعت اخوان المسلمون بھی شامل تھی۔اٹارنی جنرل کے بہ قول ان افراد نے اپنی تنظیم کو رقوم کی فراہمی کے لیے رئیل اسٹیٹ کی فرموں میں سرمایہ کاری کررکھی تھی۔