.

سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کو نومبر تک کام کی اجازت

غیرقانونی مقیم غیرملکیوں کے خلاف نئے اسلامی سال کے آغاز تک کارروائی مؤخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی کارکنوں کے لیے قانونی درجہ حاصل کرنے کی مدت میں تین نومبر تک توسیع کردی ہے۔

شاہ عبداللہ کی جانب سے سعودی عرب میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کے لیے عام معافی کی مدت تین جولائی کو ختم ہورہی تھی۔سعودی حکام نے اس سال کے آغاز میں ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکی کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار ایسے غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑنے کے لیے شاہراہوں اور کمپنیوں کے دفاتر پر چھاپہ مار کارروائیاں کررہے تھے۔

سعودی حکام کی کارروائیوں کے بعد ہزاروں غیر ملکیوں کو سعودی عرب سے بے دخل کردیا گیا ہے یا پھر وہ خود ہی اپنے آبائی ممالک کو لوٹ گئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ان خدشات کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ اگر غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی کا عمل جاری رہتا ہے تو اس سے سعودی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس اندیشے کے پیش نظر سعودی حکومت نے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ تین جولائی تک سعودی عرب میں قیام کے لیے قانونی درجہ حاصل کرلیں اوراس مدت کے دوران ان سے ویزے کی خلاف ورزیوں، زایدالمیعاد قیام یا ملازمتیں تبدیل کرنے پر کوئی اضافی فیس یا جرمانہ وصول نہیں کیا جائے گا لیکن افسر شاہی کے تاخیری حربوں کی وجہ سے بہت سے غیر قانونی تارکین وطن ابھی تک سعودی عرب میں قانونی درجہ حاصل نہیں کرسکے ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے ایک سرکاری بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب سکیورٹی فورسز تین نومبر کو نئے سال کے آغاز کے موقع پر غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کریں گی۔