.

توسیع حرم کے بعد ایک لاکھ پانچ ہزار افراد فی گھنٹہ طواف کرسکیں گے

معذورافراد کے طواف کے لیے الگ منزل مختص: حکام کی بریفنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ مکرمہ میں مسجد حرم کی توسیعی منصوبے پرتیزی سے کام جاری ہے۔ منصوبے کی نگرانی پر مامورحکام کا کہنا ہے کہ صحن طواف کی توسیع کے بعد ایک گھنٹے میں ایک لاکھ پانچ ہزار افراد طواف کی سعادت حاصل کرسکیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صحن طواف کی توسیع کا منصوبہ تین مراحل میں دو سال کے عرصے میں مکمل ہوگا۔

توسیع کی اس اسکیم میں صحن سے ملحقہ مسجد حرم کے اندر مختلف مقامات پر بنائے گئے محرابوں کی از سرنو تعمیرو مرمت بھی شامل ہے۔ نیز مسجد کی تمام منازل کو ہوادار اور زائرین کے لیے باعث راحت بنانے کے لیے انہیں ہرطرح کی سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا۔

اسلامی تعاون تنظیم "او آئی سی" کے ایک وفد کوحرم کے توسیعی منصوبے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے سعودی حکام نے بتایا کہ "تین مراحل میں سے پہلا مرحلہ امسال رمضان المبارک میں پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ حکام کا کہنا تھا کہ توسیعی منصوبے کے باعث اس سال اندرون ملک سے عازمین حج کی تعداد میں 50 جبکہ بیرون سعودی عرب سے آنے والے حاجیوں کی تعداد میں بیس فی صد کم کرنا پڑی ہے۔ رمضان المبارک کے دوران معتمرین کی تعداد بھی توسیعی منصوبے کی وجہ سے متاثر ہو گی۔

خیال رہے کہ مسجد حرم کے موجودہ صحن طواف میں اڑتالیس ہزار افراد ایک گھنٹے میں طواف کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ توسیعی منصوبے پر جاری کام کی مدت میں یہ تعداد کم ہو کر 22 ہزار فی گھنٹہ رہ جائے گی۔

صحن حرم کے اندر معذور افراد کے طواف کی خاطر گولائی شکل میں بارہ میٹر چوڑی اور تیرہ میٹر اونچی منزل مسجد کے اندر مختص کی گئی ہے جہاں تک رسائی کے لئے لفٹ اور برقی زینوں کی مدد سے پہنچنے کا انتظام کیا جا رہا ہے تاکہ 'مخصوص' ضروریات کے حامل حاجی کسی رکاوٹ کے بغیر مناسک حج ادا کر سکیں۔