.

صدر مرسی کا "مرتے دم تک اپنے آئینی عہدے" کے دفاع کا عزم

"سابقہ حکومت کی بدعنوان عناصر مظاہروں کو ہوا دے رہے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے کہا ہے کہ "وہ قانونی طور پر ملک کے صدر منتخب ہوئے ہیں اور کسی بھی دباؤ کے نتیجے میں مستعفی نہیں ہوں گے۔" ادھر قاہرہ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مرسی کے سولہ حامی مارے گئے ہیں۔

منگل رات گئے اپنے نشریاتی خطاب میں مصری صدر محمد مرسی نے کہا کہ "وہ حکومت مخالف مظاہروں کے باوجود اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔" مرسی کے مخالفین کا مطالبہ ہے کہ وہ اقتدار سے الگ ہو جائیں اور ملک میں قبل از وقت انتخابات کا انعقاد کرایا جائے۔ مرسی نے اپنے عوامی خطاب میں فوج کی طرف سے دیے گئے الٹی میٹم کو مسترد کرتے ہوئے عوام کو پر سکون رہنے کی تاکید کی ہے۔

قبل ازیں ملکی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے حکومت کو اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ بدھ تک اپوزیشن کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کر لیا جائے ورنہ وہ فوج مستبقل کی حکمت عملی کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کرے گی، جس میں ملک کے تمام سیاسی فریقین کی رائے کا احترام کیا جائے گا۔

تاہم ایک برس قبل ملکی صدر کا عہدہ سنبھالنے والے محمد مرسی نے کہا ہے کہ ملکی فوج اپنے اس الٹی میٹم کو واپس لے، لے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی سے بھی احکامات نہیں لیں گے اور اپنے 'آئینی عہدے کا مرتے دم تک دفاع کریں گے۔'

چالیس منٹ دورانیے کی تقریر میں ڈاکٹر محمد مرسی نے مزید کہا کہ "وہ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے بعد ملک کے صدر منتخب کیے گئے ہیں اور وہ ملکی مسائل کے حل کے لیے اپنے وضع کردہ منصوبہ جات پر عمل پیرا رہیں گے۔" انہوں نے اپوزیشن کو ایک مرتبہ پھر قومی مذاکرات میں شریک ہونے کی دعوت بھی دی ہے۔

جمہوری طور پر منتخب کیے جانے والے مصر کے پہلے صدر محمد مرسی نے اعتراف کیا کہ "ان سے کچھ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔" انہوں نے البتہ کہا کہ سابق حکومت کی پیدا کردہ بدعنوانی اب بھی اصلاحات کے عمل میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق صدر حسنی مبارک کے حامی حکومت مخالف مظاہروں کو ہوا دے رہے ہیں اور تشدد کا باعث بن رہے ہیں۔

اپوزیشن کے "تمرد" نامی گروپ نے صدر مرسی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے ہی عوام کو حراساں کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اسی گروپ نے اتوار کے دن قاہرہ کے التحریر اسکوائر پر ایک بڑی ریلی کا انعقاد کیا تھا، جس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے تھے۔ یہ مظاہرہ گزشتہ تین روز سے جاری ہے۔ جب مرسی عوام سے خطاب کر رہے تھے تو وہاں موجود لوگ نعرے بازی کر رہے تھے کہ مرسی اقتدار سے الگ ہو جائیں۔

تمرد [بغاوت] تحریک نے ملکی فوج سے تقاضا کیا ہے کہ وہ محمد مرسی کو گرفتار کرے اور ان کے خلاف مقدمہ چلائے۔ اس باغی اپوزیشن گروپ نے محمد مرسی کی طرف سے مستعفی نہ ہونے کے اعلان کے بعد بدھ کے دن سے نئے مظاہروں کی کال بھی جاری کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے بتایا ہے کہ مرسی کے نشریاتی خطاب کے بعد دارالحکومت میں واقع قاہرہ یونیورسٹی کے باہر حکومت کے حامی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین ہونے والے تصادم کے نتیجے میں سولہ افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔