.

طرابلس: مسلح افراد نے وزارت داخلہ حملے کے بعد بند کر دی

بن غازی میں سکیورٹی فورسز کی گشتی پارٹی پر حملے میں دو اہلکار زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں مسلح افراد نے وزارت داخلہ پر منگل اور بدھ کی درمیانی شب حملہ کردیا ہے اور وہاں فائرنگ کے بعد اس کے داخلی راستے بند کردیے ہیں۔

وزارت داخلہ کی عمارت کے احاطے میں رات دس بجے کے قریب فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں لیکن یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ یہ فائرنگ حملہ آوروں نے کی تھی یا پھر محافظوں نے جوابی انتباہی فائر کیے تھے۔اس واقعہ کے بعد مسلح افراد نے وزارت کی عمارت کا محاصرہ کر لیا۔اس کے داخلی دروازے کو سامنے ریت کی بوریاں رکھ کر بند کردیا اور وہاں سے فرار ہوگئے۔

لیبیا کے سرکاری حکام نے مغربی شہر الزنتان سے تعلق رکھنے والے مسلح جنگجوؤں پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے۔گذشتہ بدھ کو بھی الزنتان سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد نے سابق باغی جنگجوؤں کے زیر حراست اپنے پانچ ساتھیوں کو چھڑوانے کی کوشش کی تھی اور اس دوران دونوں متحارب گروہوں کے درمیان طرابلس کے نواح میں جھڑپ ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ الزنتان سے تعلق رکھنے والے سابق باغی جنگجو اگست 2011ء میں پہلی مرتبہ دارالحکومت میں داخل ہوئے تھے اور انھوں نے سابق صدر معمر قذافی کی وفادار فورسز کو وہاں سے نکال باہر کرنے اور ان کے اقتدار کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔اس کے بعد سے ان میں سے بعض جنگجو ابھی تک دارالحکومت ہی میں موجود ہیں اور انھوں نے سابق فوج کے اڈوں اور اداروں پر قبضہ کررکھا ہے۔

ادھر لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں رات ایک اور واقعے میں خصوصی دستوں کی ایک گشتی پارٹی پر کار بم حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دو فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔گذشتہ ہفتے اس شہر میں ایک فوجی افسر اپنی گاڑی میں بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا تھا۔