.

قاہرہ میں مصری فوج نے مرسی حکومت کا تختہ الٹ دیا

شیخ الازہر سمیت متعدد حلقوں کی جانب سے 'فوجی بغاوت' کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی فوج نے ملکی آئین معطل کر کے محمد مُرسی کو صدارت کے منصب سے ہٹا دیا ہے۔ فوج کے کمانڈر اِن چیف عبدالفتح السیسی نے سرکاری ٹیلی وژن پر اس بات کا اعلان کیا۔

عبدالفتح السیسی کا کہنا تھا کہ اعلیٰ آئینی عدالت کے سربراہ عدلى منصور نگران صدر کے طور پر ذمے داریاں سنبھالیں گے جبکہ انتخابات سے قبل قومی اتحادی حکومت قائم کی جائے گی۔ فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مضبوط اور باصلاحیت حکومت تشکیل دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئینی ترامیم پر غور کے لیے ایک پینل بنایا جائے گا اور پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کے لیے قانون تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ آئین معطل کر دیا گیا۔ یہ آئین مُرسی کے اسلامی اتحادیوں کی اکثریتی ایک کمیٹی نے ڈرافٹ کیا تھا۔

ٹیلی وژن پر فوج کے سربراہ کا بیان نشر ہونے کے بعد قاہرہ کے تحریر اسکوائر پر جشن کا سا سماں تھا۔ وہاں موجود مُرسی مخالف مظاہرین نے آتش بازی بھی کی اور خوشی سے نعرے لگائے۔ عبدالفتح السیسی کے اعلان سے قبل ہی قاہرہ کی سڑکوں پر فوج کی بھاری نفری دکھائی دینے لگی تھی۔

مصر کے صدارتی دفتر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں مُرسی کے حوالے سے کہا ہے کہ فوج کی کاررائی ’پوری طرح حکومت کا تختہ الٹے‘ جانے کے مترادف ہے۔ محمد مُرسی کے ایک معاون ایمن علی نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ معزول صدر کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

اُدھر بدھ کو شمالی شہر مرسى مطروح میں محمد مُرسی کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔ ریاستی گورنر بدر طنطاوی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ مرنے والے مُرسی کے حامی تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اپوزیشن رہنما عمرو موسیٰ کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مشاورت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

قاہرہ میں سکیورٹی فورسز نے مصر میں الجزیرہ کے "مصر لائیو " ٹیلی وژن پر چھاپہ بھی مارا ہے۔ رائیٹرز کے مطابق اس کارروائی میں عملے کے کم از کم پانچ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس چینل پر مُرسی کی اخوان المسلمون کے لیے نرم گوشہ رکھنا کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

اپوزیشن رہنما محمد البرادعی کا کہنا ہے کہ فوج کے ساتھ بدھ کو ہونی والی بات چیت میں 2011ء کے انقلاب کے آئین کو یقینی بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔