.

قاہرہ یونیورسٹی کے قریب جھڑپوں میں 22 ہلاک، 200 زخمی

السرایات کے علاقے میں پولیس کے ڈی ایس پی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق جامعہ قاہرہ کے آس پاس صدر مرسی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے درمیان تصادم پر قابو پانے کے لئے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک اور200 زخمی ہو گئے۔

صورتحال پر قابو پانے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لئے ایمبولینسز تصادم کے مقام کی جانب جاتی دیکھی گئی ہیں۔ ادھر النھضہ سکوائر کے قریب بھی عمارتوں سے آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس افسر کے زخمی ہو گیا، یہ پولیس افسر متاثر علاقے میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے دورے پر تھا۔
کی اطلاع بھی موصول

پولیس نے صدر مرسی کے حامیوں کا مغربی قاہرہ کے مصر سکوائر میں دھرنا ختم کرانے کے لئے کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں بعض لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ الغردقہ کے علاقے میں صورتحال کا جائزہ لینے والے پولیس اہلکاروں پر بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس سے ایک اہلکار پیٹ میں گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔

جنرل محمد ابراہیم اور مصری وزیر داخلہ اپنی ہی وزارت کے کرائسس مینجمنٹ سیل میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گے تاکہ شہریوں اور صدر مرسی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔

اس سے پہلے وزیر صحت اور ہاوسنگ ڈاکٹر مصطفی حامد نے بتایا تھا کہ منگل کے روز مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں میں کل انتالیس افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں سات زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔