شامی قومی اتحاد کا نئے سربراہ کے انتخاب کے لیے استنبول میں اجلاس

عرب اور مغربی ممالک شامی حزب اختلاف کو منتشر ہونے سے بچانے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کا آج جمعرات کو ترکی کے شہر استنبول میں اجلاس ہورہا ہے جس میں اس کے نئے سربراہ کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔

شامی قومی اتحاد کے سابق سربراہ احمد معاذالخطیب کے مستعفی ہونے کے بعد سے اس کے نئے سربراہ کا انتخاب عمل میں نہیں آیا ہے اور اس اتحاد میں شامل مختلف جماعتوں اور گروپوں کے لیڈروں کے درمیان اس حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اتحاد کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ مغربی اور عرب ممالک شامی حزب اختلاف کو منتشر ہونے سے بچانے کے لیے کوشاں ہیں اور اس کے گذشتہ اجلاس کے موقع پر بھی بعض عرب اور مغربی ممالک نے مداخلت کی تھی اور اس کو بکھرنے سے بچا لیا تھا۔

واضح رہے کہ شامی صدر بشارالاسد کے مخالف سیاست دانوں کی اکثریت ازخود جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہے اور ان کا برسرزمین شامی فوج سے برسر پیکار باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر سے کوئی موثر رابطہ نہیں ہے جس کی وجہ سے شامی قومی اتحاد اور جیش الحر میدان جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکے ہیں۔

اس صورت حال میں اب جیش الحر شامی فوج کے مقابلے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے بھی محروم ہورہا ہے اور حالیہ ہفتوں کے دوران شامی فوج نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی مدد سے باغیوں کے زیر قبضہ متعدد علاقوں پر دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔شامی فوج نے حال ہی میں وسطی شہر القصیر پر قبضہ کیا ہے اور اب وہ گذشتہ ہفتے کے روز سے ملک کے تیسرے بڑے حمص شہر میں باغی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہے اور ان کے ٹھکانوں پر زمینی اور فضائی حملے کیے جارہے ہیں۔

شامی فوج کی باغیوں کے مقابلے میں میدان جنگ میں ہونے والے اس پیش قدمی پر صدر بشارالاسد کے مخالف عرب اور مغربی ممالک بھی اب سر جوڑ کر بیٹھ رہے ہیں اور وہ باغی جنگجوؤں کو جدید ہتھیاروں سے مسلح کرنے پر غور کررہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھیں یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ یہ ہتھیار القاعدہ سمیت اسلام پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔

اس خدشے کے پیش نظر امریکا نے شامی باغیوں کو براہ راست مسلح کرنے سے تو ہاتھ کھینچ لیا ہے۔البتہ اب وہ اس ضمن میں خطے میں اپنے اہم اتحادی ملک سعودی عرب پر تکیہ کررہا ہے اور اس کے ذریعے باغیوں کو مسلح کیا جارہا ہے۔ایک مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ برسرزمین امریکی فوج کی بالواسطہ کم سے کم مداخلت کی ہے لیکن سفارتی سطح پر واشنگٹن کا کردار بہت زیادہ ہے۔

امریکا نے سعودی عرب کے ذریعے شامی باغیوں کو حال ہی میں ٹینک شکن میزائل دیے ہیں جبکہ یہ اطلاع بھی سامنے آئی ہے کہ امریکی اور فرانسیسی سکیورٹی اہلکار ترکی کی سرحد کے نزدیک شام کے شمالی صوبے حلب میں باغی جنگجوؤں کو جدید ہتھیار چلانے کی تربیت دے رہے ہیں اور ان کی تربیت اور ٹینک شکن میزائلوں کی بدولت ہی اس علاقے سے اسدی فوج کی پسپائی ہوئی ہے اور وہاں وہ اور اس کی اتحادی حزب اللہ ملیشیا القصیر کی طرح دوبارہ قبضہ نہیں کرسکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں