مصری فوج نے ملک کو گہری کھائی میں گرنے سے بچا لیا: سعودی عرب

قاہرہ میں امریکی سفارت خانہ بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرمیں سابق صدرمحمد مرسی کی حکومت کے خلاف فوجی ایکشن پرعالمی اوراسلامی دنیا کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے عبوری صدر عدلی منصور کو تہنیتی پیغام میں کہا ہے کہ مصرکی مسلح افواج نے ملک کو گہری کھائی میں گرنے سے بچا لیا۔ اگر مصری فوج فوری ایکشن نہ لیتی تو نہ جانے اس کے بعد کی صورتحال کے کیا نتائج سامنے آتے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ الشیخ عبداللہ بن زاید نے مصرمیں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "مصرکی عظیم مسلح افواج نے آج ایک مرتبہ پھرثابت کردیا ہے کہ وہ ملک اور وقوم کی محافظ ہیں۔ اب فوج ہی ملک کے اداروں کو مضبوط بنانے اور عوامی امنگوں کے مطابق آئین اور قانون کی بالادستی کی ضمانت فراہم کرسکتی ہے"۔

ادھر اردنی وزیرخارجہ ناصر جودہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ فوج کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے ملک وقوم کے مفاد میں فیصلہ کرے۔

درایں اثناء امریکا نے مصرمیں فوجی بغاوت پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طورپر قاہرہ میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واشنگٹن وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں ان کی حکومت مصرمیں اپنا سفارتی عملہ نہیں روک سکتی۔ سیکیورٹی اور دیگروجوہات کی بناء پرقاہرہ میں امریکی سفارت خانہ خالی کرا لیا گیا ہے۔

ادھرامریکی کانگریس کے ایک سرکردہ رکن نے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن قاہرہ میں ہونے والے فوجی ایکشن کے ردعمل میں مصرکی امداد روک سکتا ہے۔ اپنے ایک بیان میں رکن کانگریس کا کہنا ہے کہ مصرمیں سیاسی صورت حال کے واضح ہونے کے انتظار کے ساتھ امریکی حکومت قاہرہ کو امداد کی فراہمی پرنظرثانی کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی قانون ایسے کسی ملک کو امداد کی فراہمی کی اجازت نہیں دیتا جہاں ملک کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے اور فوج اس کی جگہ اقتدار پرقابض ہوجائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں