مصری فوج کے اقتدار پر شب خون کے بعد اخوان کی قیادت زیر حراست

گرفتاریوں کا دائرہ کئی دیگر مذہبی جماعتوں تک بڑھا دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر میں سابق صدر محمد مُرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اخوان المسلمون کے سیاسی چہرے "آزادی و انصاف" کے کئی سرکردہ رہ نماؤں کوحراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

قاہرہ میں سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حکام نے 'آزادی و انصاف' کے چیئرمین سعد الکتاتنی، اخوان المسلمون کے نائب مرشد عام ڈاکٹر رشاد البیومی اور کئی دیگر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کا دائرہ اخوان المسلمون کے علاوہ کئی دوسری مذہبی جماعتوں اور مذہبی چینلوں کے مالکان اور عہدیداروں تک بڑھا دیا گیا ہے.

درایں اثنا اخوان المسلمون کے ایک دوسری مرکزی رہنما اور تنظیم کے نائب مرشد عام خیرت الشاطر کے صاحبزادے نے"العربیہ" سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے والد کی گرفتاری کی خبروں کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے والد کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ ان کی گرفتاری سے متعلق تمام اطلاعات بے بنیاد ہیں۔

درایں اثناء مصر کے کثیرالاشاعت عربی روزنامہ "الاھرام" نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے اخوان المسلمون کے تین سو سرکردہ رہ نماؤں کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

ادھر قاہرہ وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی "اے ایف پی" کو بتایا کہ اخوان المسلمون کے جن رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوچکے ہیں ان کی تلاش جاری ہے۔ وزارت داخلہ کے عہدیدار نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں کہ آیا اب تک کن کن رہ نماؤں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ادھر بدھ کے روز حراست میں لیے گئے سابق وزیراعظم ھشام قندیل کو عدالتی حکم پر ایک سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں