مصر کے واقعات سے ظاہر ہے اقتدار صرف طاقت سے حاصل ہوتا ہے:الشباب

تبدیلی صرف گولی سے آئے گی،ووٹ سے نہیں:مرسی کی برطرفی پر ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صومالیہ کے جنگجو گروپ الشباب کا کہنا ہے کہ مصر میں رونما ہونے والے واقعات سے ظاہر ہے کہ اقتدار جمہوریت سے نہیں بلکہ طاقت سے حاصل ہوتا ہے۔

الشباب نے مصری فوج کے ہاتھوں جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی پر ٹویٹر پر اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ ''اس سے ظاہر ہوتا ہے ،اسلام پسند اگر منتخب بھی ہوں تو انھیں حکومت کی اجازت نہیں دی جائے گی''۔

الشباب کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''اب ان گلابی عینکوں کو اتارنے اور دنیا کو اس کی حقیقی شکل میں دیکھنے میں وقت آگیا ہے۔تبدیلی صرف گولی سے آئے گی،ووٹ سے نہیں''۔

الشباب نے تو تشدد کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے پر زوردیا ہے لیکن صدر محمد مرسی نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ ان کی برطرفی پر تشدد کا راستہ نہ اپنائیں اور پرامن رہیں۔اخوان المسلمون نے بھی اپنے حامیوں اور کارکنان کو پرامن رہنے کی تلقین کی ہے۔

لیکن صومالی تنظیم نے کہا ہے کہ ''اخوان المسلمون کو تاریخ سے تھوڑا بہت سیکھنے کی ضرورت ہے۔ان سے قبل الجزائر میں (اسلام پسندوں) اور حماس کی منتخب حکومت کو چلتا کیا گیا تھا''۔بیان میں الجزائر میں 1992ء میں عام انتخابات میں اسلامک سالویشن فرنٹ اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی تنظیم حماس کی کامیابی کا حوالہ دیا گیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے چھے سال قبل حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہنئیہ کی منتخب حکومت ختم کردی تھی جس کے بعد اس نے غزہ میں اپنی عمل داری قائم کر لی تھی لیکن اسے تب سے اسرائیلی محاصرے اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے جبکہ الجزائر میں اسلامی محاذ آزادی کو عام انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی کے باوجود فوج نے اقتدار منتقل نہیں ہونے دیا تھا اور اس کے بجائے اس جماعت کی قیادت اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا اور انھیں پس دیوار زنداں ڈال دیا تھا۔

بیان میں اخوان المسلمون سے کہا گیا ہے کہ ''وہ کب خواب غفلت سے بیدار ہوگی اور اسے اپنی کوششوں کے بے سود ہونے کا ادراک ہوگا۔اخوان کے گھوڑے کو ایک سال تک رکاوٹوں سے ٹکرانے کے بعد منزل سے دور بھگا دیا گیا ہے اور وہ اب کبھی دن کی روشنی نہیں دیکھ سکے گا''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں