تیونس میں مصر کی طرح فوجی بغاوت کا خطرہ نہیں:منصف مرزوقی

تیونس کی پیشہ ور فوج نے خود کو کبھی سیاست سے آلودہ نہیں کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کے صدر منصف مرزوقی نے مصر کی طرح فوج کے ہاتھوں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مقبول عام مطالبات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ تیونس میں بھی مصر جیسا منظرنامہ دہرایا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں بنیادی لوازمات موجود نہیں ہیں اور دوسرا یہاں تیونس میں ایک پیشہ ور جمہوری آرمی ہے جس نے خود کو کبھی سیاسی سے آلودہ نہیں کیا۔

البتہ صدر مرزوقی نے فرانسیسی صدرفرانسو اولاند کے ساتھ دارالحکومت تیونس میں مشترکہ نیوزکانفرنس میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ ''تیونسیوں میں نظریاتی بُعد پایا جاتا ہے۔ایک جانب اسلام پسند ہیں جن کی قیادت میں اتحادی حکومت قائم ہے اور دوسری جانب سیکولر جدت پسند ہیں لیکن وہ مصر کی طرح باہم محاذ آراء نہیں ہیں''۔

انھوں نے کہا:''یہ کہا جاتا ہے کہ ہمیں اشارے کو سمجھنا چاہیے اور اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ بعض سنگین اقتصادی اور سماجی مطالبات موجود ہیں لیکن اتفاق رائے سے ہم درپیش مسائل کو حل کرسکتے ہیں''۔

فرانسیسی صدر نے اس موقع پر تیونس میں اسلامی جماعت النہضہ کے زیرقیادت حکومت کے لیے حوصلہ افزاء الفاظ کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ ''آپ کے لیے ایک بات واضح ہے کہ آپ کو کامیاب ہونا ہے کیونکہ آپ بہت سے عربوں کے لیے ایک مثال اور حوالہ ہیں''۔انھوں نے تیونس میں انتقال اقتدار کو ''کنٹرولڈ'' قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں