سابق مصری صدر حسنی مبارک کیخلاف مقدمے کی سماعت 17 اگست تک ملتوی

حسنی مبارک کو مظاہرین کے قتل اور بدعنوانی جیسے الزامات کا سامنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے صدر مقام قاہرہ کی ایک عدالت نے سابق معزول صدر حسنی مبارک پر اپنے خلاف عوامی تحریک میں نہتے مظاہرین کو قتل کرنے اور بدعنوانی کے الزامات میں جاری عدالتی کارروائی کی دوبارہ سماعت سترہ اگست تک ملتوی کر دی ہے۔

حسنی مبارک اور بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنا والے ان کے دو بیٹوں جمال اور علا ہفتے کے روز عدالتی کارروائی میں موجود تھے۔ یاد رہے کہ حسنی مبارک بدعنوانی اور سنہ 2011ء کو اپنے خلاف بپا ہونے والی عوامی بغاوت کے دوران 850 مظاہرین کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔

حسنی مبارک کو2011 کے آغاز میں بغاوت کے دوران ساڑھے آٹھ سو مظایرین کے قتل اور بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا ہے۔ مصر کے سابق مرد آہن کو سن 2012ء میں ان الزامات میں سزا سنائی گئی تھی تاہم فیصلے کے خلاف اپیل میں ان کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا گیا۔

واضح رہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کی معزولی کے بعد جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو فوج نے بدھ کے روز ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ صدر مرسی کی جگہ فوج نے دستوری عدالت کے سربراہ عدلی منصور کو مصر کا عبوری صدر مقرر کیا۔ اس اقدام کو فوج ملک میں نئے انتخابات کے لائحہ عمل کا حصہ قرار دے رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں