سلفی نور پارٹی نے عبوری صدر کا پہلا فرمان مسترد کر دیا

فرمان میں شوری کونسل کو تحلیل اور نیا خفیہ سربراہ مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر میں سلفی مکتبہ فکر کی پیروکار 'نور پارٹی' نے عبوری صدر عدلی منصور کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کئے جانے والے پہلے دستوری اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔

عدلی منصور نے جمعہ کو جاری دستوری حکمنامے میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا کو تحلیل کر دیا تھا۔

مصری پارلیمنٹ کا ایوان بالا ۔ شوری کونسل ۔ حکمران فوجی کونسل کی جانب سے ایوان زیریں کے تحلیل کئے جانے کے بعد بھی کام کرتا رہا ہے۔ ایوان زیریں محمد مرسی کے سنہ 2012ء میں صدر منتخب ہونے سے قبل تحلیل کر دیا تھا۔

صدارتی فرمان میں عبوری صدر نے محمد مرسی کے مقرر کردہ انٹلیجنس سربراہ محمد رفعت شحاتہ کو ہٹا کر ان کی جگہ محمد احمد فرید الطوہامی کو خفیہ ادارے کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔

ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں سلفی نور پارٹی نے کہا کہ ہماری سرگرمیوں کا مقصد مصر میں قومی اتحاد کو فروغ اور خونریزی کو روکنا تھا۔ نور پارٹی ملک میں مرسی نواز مظاہروں کے خلاف چلی آ رہی تھی۔ یہ جماعت بڑی شدومد سے قبل از وقت صدارتی انتخابات کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

"تاہم گزشتہ دو روز سے مصر میں رونما ہونے والے واقعات کے بعد ہم ملک میں ہونے والی بہت سی چیزوں کو مسترد کرتے ہیں۔"

نور پارٹی نے اپنے بیان میں جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر محمد احمد طیب کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کیا جس میں انہوں نے عوام کو متحد کرنے کی کوششیں تیز کرنے، خونریزی روکنے اور مصری عوام کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے پر زور دیا تھا۔

مصر کی سیکیورٹی وفورسسز نے شکست خوردہ انتہا پسند سلفی صدارتی امیدوار حازم صالح ابو اسماعیل کو گزشتہ روز گرفتار کر لیا تھا۔ جمعہ کے روز سامنے آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ صدر مرسی کی حکومت کے خلاف فوجی ایکشن کے فوری بعد حازم ابو اسماعیل کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں