مصر: اخوان المسلمون کے نائب مرشد عام گرفتار، طرہ جیل منتقل

تنظیمی دفتر کے باہر کارکنوں کو مظاہرین کے قتل پر اکسانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

قاہرہ سے 'العربیہ' کی نمائندہ نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ اخوان المسلمون کے نائب مرشد عام انجینئر خیرات الشاطر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خیرات الشاطر کو سخت سیکیورٹی میں طرہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں ان کے بھائی کو سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لے لیا ہے۔

مصری پراسیکیوشن نے خیرات الشاطر پر الزام عاید کیا تھا کہ انہوں نے دارلحکومت قاہرہ کی المقطم کالونی میں اخوان المسلمون کے مرکزی دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی اور اپنے کارکنوں کو ایسا کرنے پر اکسایا۔
گزشتہ اتوار کو اخوان کے دفتر کے باہر ہونے والی جھڑپوں میں آٹھ اخوان مخالف مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔

خیرات الشاطر نے گزشتہ برس ہونے والے صدارتی انتخاب لڑنے کے لئے اپنے کاغذات جمع کرائے تھے لیکن قانونی وجوہات کی بنا انہیں مسترد کر دیا گیا جس کے بعد ان کی جگہ جماعت نے ڈاکٹر محمد مرسی کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا۔

اخوانی قیادت کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کے ترجمان خالد داود نے 'العربیہ' کو بتایا کہ اپوزیشن محاذ کسی جماعت کی قیادت کو بغیر قانونی جواز کے گرفتار کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخوان المسلموں کو بھی دوسروں کی رائے کا احترام کرنا چاہئے اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے چاہیں۔ "یہ [اخوان] کہتے ہیں کہ ہم بات چیت اور مذاکرات قبول نہیں کرتے جبکہ ہماری خواہش ہے کہ وہ بات کریں۔ وہ اپنے جماعتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔"

معروف مصری کالم نگار علی بریشہ کا کہنا تھا کہ" اخوان المسلمون، مصر میں سیاسی طور پر تنہا ہو کر رہ گئی ہے۔ ہمیں اس بات سے انکار نہیں کہ ملک میں ان کے حامی موجود ہیں اور ان کی تعداد دو ہزار سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ ان کی جانب سے ملک کی جانی والی تخریب کاری اور تشدد کھلا راز ہے۔ تاہم ان کے مقابلے میں بیس ملین پرامن مظاہرین نے ان پر اپنی عددی اکثریت بھی ثابت کر دی ہے۔"

عسکری اور اسٹرٹیجک امور کے ماہر جنرل حمدی بخیت کے مطابق "یہ جماعت [اخوان] ایک محلہ چلانے کی اہل نہیں، ملک چلانا دور کی بات ہے۔ یہ خود کو اسلامی جماعت کہتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ دوسرے سب کافر ہیں۔ یہ حالیہ انقلاب کے بارے میں معاشرے میں غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی کانگریس کا بیان کافی ہے کہ جس میں حالیہ انقلاب کو پرامن عوامی جدوجہد قرار دیا گیا ہے۔"

"مصری فوج کو کسی دباو کا سامنا نہیں بلکہ وہ عوامی امنگوں کو روبعمل لانے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ مرشد عام بدیع الزمان اپنی جماعت کی لشکر کشی اور قتل مقاتلے کو جائز قرار دینے کے لئے جو کچھ کر رہے ہیں اس کے بعد مصری فوج کے صبر کا پیمانہ لبریر ہو سکتا ہے۔"

جنرل بخیت نے مزید کہا کہ مسلح فوج کے پاس اخوان المسلمون کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت ہے۔ ان کا ردعمل فوری اور حتمی ہو گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں