ڈاکٹر محمد البرادعی کو مصر میں عبوری حکومت قائم کرنے کی دعوت

اخوان نے البرادعی کی بطورعبوری وزیر اعظم تقرری کو مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے عبوری صدر جسٹس عدلی منصور نے الدستور پارٹی کے سربراہ اور اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل نیشنل سالویشن فرنٹ کے اہم رہنما ڈاکٹر محمد البرادعی کو ملک میں نئی عبوری حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی ہے، جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے۔

درایں اثناء اخوان المسلمون کے سیاسی چہرے 'انصاف و حریت' کے ایک اعلی عہدیدار نے اپوزیشن رہنما نے ڈاکٹر محمد البرادعی بطور عبوری وزیر اعظم تقرری کو مسترد کر دیا ہے۔ ہفتے کے روز جنوبی قاہرہ میں 'انصاف و حریت' کے حامیوں سے خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ "ہم فوجی انقلاب اور البرادعی سمیت اس کے بطن سے پیدا ہونے والوں کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

معزول صدر ڈاکٹر مرسی کے خلاف 'تمرد' نامی عوامی تحریک کے مطابق ڈاکٹر البرادعی نے اس شرط پر مصر کے چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ قبول کیا ہے کہ انہیں مکمل اختیارات دیئے جائیں گے۔ معروف مصری نیوز پورٹل 'بوابہ الاہرام' کے مطابق محمد البرادعی نئی عبوری حکومت کی تشکیل کے بعد اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

'تمرد' تحریک کے بانی محمد عبدالعزیز نے بتایا کہ انہوں نے ہفتے کے روز مصر کے عبوری صدر جسٹس عدلی منصور سے بند کمرے میں الگ ملاقات کی جس کے انہوں نے دیگر قومی شخصیات کے ہمراہ عبوری صدر سے ملاقات کی، جس کی تفصیلات سے میڈیا کو بعد ازاں آگاہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ 'تمرد' نے صدر سے ملاقات میں ڈاکٹر محمد البرادعی کا نام عبوری وزیر اعظم اور ہشام رامزعبوری وزیر مالیات، جنرل احمد جمال الدین عبوری وزیر سیکیورٹی، خالد تلمیہ امور نوجواناں کے نگران وزیر کے طور پر تجویز کیا۔ مصری اخبار 'الیوم السابع' کے مطابق صدر سے ملاقات کرنے والی قومی شخصیات نے قومی مصالحت اور نینشل ڈائیلاگ کمیٹیوں کی تشکیل کی بھی تجویز پیش کی۔

عبدالعزیز نے مزید کہا کہ ڈاکٹر البرادعی کے نام وسیع البنیاد اجلاس میں اتفاق رائے سے پیش کیا گیا تاہم سلفی جماعت 'النور' کے ڈاکٹر جلال المرہ نے ان کے نام پر اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ انکی جماعت اپنی تجاویز بعد میں تحریری صورت میں عبوری صدر کو پیش کرے گی۔

ادھر سلفی جماعت 'النور' کی ایگزیکٹیو کونسل کے رکن ڈاکٹر شعبان عبدالعلیم نے ڈاکٹر البرداعی کو عبوری وزیر اعظم بنانے کی پیشکش پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم شخصی اعتبار سے ڈاکٹر البرداعی کو وزیر اعظم بنانے کے خلاف نہیں بلکہ ہمارا اصولی موقف یہ تھا کہ ٹیکنوکریٹس پر مشتمل غیر جابندار حکومت بنائی جائے جس کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہ ہو۔ ہم اپنی اس رائے کا اظہار سابق صدر مرسی کے دور سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اب یہ بات کیسے ممکن ہے کہ جس اپوزیشن نے صدر مرسی کو معزول کرایا، اسی کی صفوں میں سے ایک شخص عبوری وزیر اعظم بنا دیا جائے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں