ایران میں جاسوسی کے الزام میں آٹھ یورپی سیاح گرفتار

ملزمان کے قبضے سے پیراشوٹ اور کیمرے برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران نے سینٹرل یورپ کے ملک سلوواکیا سے تعلق رکھنے والے آٹھ باشندوں کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ تاہم گرفتار شدگان کے دوستوں اور ان کے عزیزو اقارب نے ایرانی حکام کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے سلوواکین شہری کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہیں بلکہ وہ قدرتی مناظر کی عکس بندی اور پیرا شوٹنگ کے شوقین ہیں۔ وہ اسی شوق کو پورا کرنے کے لیے پہلے بھارت کے سفرپر تھے، وہاں سے وہ ایران پہنچے تو انہیں جاسوسی کے شبے میں دھرلیا گیا۔

سلوواکیا کے دارالحکومت پراٹیسلاوا میں ایک فیشن ماڈل میکائلا بیدناروفا نے بتایا کہ "تہران میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار شہری زندگی کے مختلف پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں فوٹو گرافر، انجینیئر، معمار اور بصری آرٹسٹ شامل ہیں۔ ان کا کسی جاسوسی نیٹ ورک کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی آج تک وہ کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ وہ ایک دستاویزی فلم کی تیاری کے لیے کام کر رہے تھے، جس کے لیے انہوں نے بھارت کا سفرکیا۔ بعد ازاں ایک دوسری فلم کی عکس بندی کے لیے انہوں نے ایران کا انتخاب کیا تھا، جہاں انہیں جاسوسی کے الزام میں پکڑا گیا ہے"۔

ایک سوال کے جواب میں میکلائلا نے بتایا کہ پہلی دستاویزی فلم کی تیاری کے دوران سلواکین باشندوں نے ایشیا کی بلند ترین چوٹی کوہ ہمالیہ میں پیرا شوٹنگ کی۔ بعد ازاں انہوں نے بھارتی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کے اظہار کے لیے وہاں کے مقامی باشندوں کی تصاویر لیں اور ان کے انٹرویوز کیے۔ وہ ایران میں بھی ایسا ہی کرنا چاہتے تھے لیکن تہران حکام کا کسی غیرملکی کو اپنے ہاں اس طرح کی سرگرمی کی اجازت دینا ہمیشہ ہی ایک مسئلہ رہا ہے۔

ایران میں زیرحراست سلواکین باشندوں کے ایک دوسرے دوست نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرفرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اےایف پی" کو بتایا کہ "گرفتار شہریوں کی عمریں تیس سال کے درمیان ہیں۔ وہ سیر و سیاحت اور مختلف عالمی ثقافتوں کے بارے میں معلومات کے حصول کے دلدادہ ہیں"۔

ایک سوال کے جواب میں محروسین کے ساتھی نے بتایا کہ اسے پہلے ہی خدشہ تھا کہ ایران میں انہیں آزادنہ کام کی اجازت نہ ہوگی اور انہیں گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔ میرا یہ خدشہ درست ثابت ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران حکام کو ہمارے دوستوں کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔ وہ قدرتی مناظر کی سیرو سیاحت کے شوقین اور خوبصورت مناظر کی دستاویزی فلمیں تیار کرنے کی مہم پر ہیں۔

محروسین تک سفارتی رسائی کا مطالبہ

درایں اثناء سلووواکیا نے ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کے سفیرکو محروسین سے ملاقات کی اجازت دے۔ سلوواکین وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے تہران میں اپنے قونصل جنرل کو اپنے محروس شہریوں سے ملاقات کی ہدایت کی تھی، جس پر انہیں بائیس مئی کو محروسین سے ملنے دیا گیا تھا۔

قبل ازیں ایرانی جوڈیشل انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ پولیس نے آٹھ سلووواکین اور ایک ایرانی باشندے کو حراست میں لیا ہے۔ محروسین ممنوعہ سامان کے ساتھ ایران میں داخل ہوئے اور صوبہ اصفہان میں ممنوعہ علاقوں کی فوٹو گرافی کر رہے تھے۔ خیال رہے کہ صوبہ اصفہان میں "نطنز" کے مقام پر یورنیم افزودگی کا ایک بڑا کارخانہ قائم ہے جس کے باعث یہ علاقہ حساس سمجھا جاتا ہے۔

سلوواکین ذرائع ابلاغ نے بھی اپنی رپورٹس میں یہ اطلاع دی ہے کہ گرفتاری کے وقت محروسین ممنوعہ وائر لیس فون اور "گوبرو" جیسے اعلیٰ کوالٹی کے کیمرے استعمال کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں