مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں ۔ ویڈیو جاری

دوافراد کو چھت سے گرا کر قتل کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے اقتدار پر شب خون مارے جانے کے بعدملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہےاس دوران معزول کیے گئے صدرکے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تصادم کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں ۔ جن میں سے ایک واقعہ بحیرہ روم کے شہر اسکندریہ کے حوالے سے سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ فسادات کے دوران محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے دوران مرسی برطرفی کا جشن منانے والے دو افراد کو معزول صدر مرسی کے حامیوں نے مبینہ طور پر ایک پانچ منزلہ عمارت سے نیچے گرا دیا۔ اس واقعے کی مبینہ ویڈیو بھی منظر عام پر آ گئی ہے۔، جس میں دکھایا گیا ہے کہ محمد مرسی کے حامیوں نے مرسی مخالف مظاہرین میں سے دو نوجوانوں کو عمارت سے نیچے پھینک دیا۔

مصر میں جاری مرسی مخالف مظاہرین اور معزول صدر کے حامیوں کے مابین جھڑپوں میں اب تک چھیالیس افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ اسکندریہ شہر میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مصر اور مصر سے باہر ۔ بھر پور انداز میں تشہیر کی گَئی ان مبینہ طور چھت سے گرائے گئے دو افراد کی ویڈیو فوٹیج کے حوالے سے دو ہلاک شدگان کی بتائی گئی شناخت کے مطابق ایک کا نام سیدی جبر بتایا گیا ہے اور یہ اسکندریہ کا رہائشی تھا جبکہ دوسرے شخص کا نام محمد بدر کے طور پر سامنے آیا ہے۔

الوطن اخبار میں اس کے والد کے چھپنے والے انٹرویو میں نوعمر محمد بدر کے والد نے بتایا کہ صدر محمد مرسی کے اقتدار سے ہٹانے کی خوشی میں مرسی مخالف مظاہرین جشن منانے میں مصروف تھے لیکن اخوان المسلمون نے ان کے جشن کو جنگ میں بدل دیا۔انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون کے فسادات میں جب مخالفین نے ان پر پتھراو کیا تو محمد بدر بھی ان میں شامل تھا اور اخوان المسلمون نے وحشیانہ انداز کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے مار دیا۔انیس سالہ محمد بدر کو مارنےکے بعد اس کا مسخ شدہ جسم عمارت کی پانچویں منزل سے نیچے گرایا گیا ۔انہوںنے کہا ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ جس عمارت کے قریب محمد بدر کو بے دردی سے قتل کیا گیا وہاں پر موجود ڈاکٹر مرسی کے حامیوں نےمبنہ طور پر القاعدہ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔ محمد بدر کے والد نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ محمد بدر کو گرانے کے بعد انہوں نے کئی دوسرے مخالفین کے ساتھ بھی ایسا کرنا چاہا مگر موجود لوگوں نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ بدر نامی ایک اور شخص بھی ان فسادات کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں