.

تیونسی اپوزیشن ملک میں مصری انقلاب کے اعادے کی خواہاں

مرسی کی معزولی تیونس میں سیاسی انتشار کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ڈاکٹرمحمد مرسی حکومت کے خلاف فوجی انقلاب کے بعد تیونس میں حکومت مخالف جماعتوں نے راشد الغنوشی کی النہضہ پارٹی کی اتحادی حکومت کا تختہ الٹنے کا تانا بانا تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ تیونس میں حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت "ندائے تیونس" نے النہضہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں فوری طور پر نگراں حکومت کی تشکیل اور آئین سازی کے لیے نیا روڈ میپ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ذرائع ابلاغ کو جاری کردہ "ندائے تیونس" کے بیان میں تنظیم نے ملک کے تمام نمائندہ طبقات پر مشتمل قومی عبوری حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ عبوری مرحلے کے لیے فوری لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔

سابق وزیراعظم الباجی قائد السبسی کی جماعت کا مزید کہنا ہے کہ ملک میں پارلیمانی انتخابات دوبارہ کرانے کے لیے فوری اور واضح روڈ میپ کی اشد ضرورت ہے۔ "ندائے تیونس" پُر زور مطالبہ کرتی ہے کہ ملک کے نئے دستور کی تدوین کے لیے آئینی کمیشن تشکیل دیا جائے، جنوری سنہ 2011ء کے انقلاب کے ثمرات کو عوام تک پہنچایا جائے اورانقلاب کو ناکام بنانے کی سازش میں ملوث عناصرکو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

"ندائے تیونس" نے حکمراں معتدل مذہبی سیاسی جماعت النہضہ پر ملک میں دستور سازی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے اور من پسند افراد کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ حکمراں جماعت عدلیہ، انتظامیہ اور دیگر ریاستی اداروں میں براہ راست مداخل کی مرتکب ہو رہی ہے۔

درایں اثناء تیونس ہی کی"نیشنل ڈیموکریٹس پارٹی" ن نے ایک بیان میں حکومت کی بعض پالیسیوں پرسخت تنبیہ کی ہے۔ ڈیموکریٹس پارٹی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہمیں بہ حیثیت قوم مصر کے تجربات سےسبق سیکھنا چاہیے اور ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔ بیان میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور قوم کے دیگر نمائندہ طبقات پر سنہ 2011ء کے انقلاب کو بچانے کے لیے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔"

مرسی کی معزولی پر سیاسی جماعتوں میں اختلافات

ڈاکٹر محمد مرسی کی معزولی پر برادر ملک تیونس کے سیاسی حلقوں میں بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ تیونس کی اپوزیشن جماعتوں نے مصرمیں سیاسی تبدیلی کے عمل کو سراہا ہے اور اسے انقلاب کا "نیا ایڈیشن" قرار دیا ہے جبکہ حکمراں جماعت "النہضہ" نے مصری فوج کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ النہضہ کے بیان کے مطابق: "صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت ختم کرکے مصری فوج نے منتخب آئینی حکومت پرشب خون مارا ہے۔ تیونس اس اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے اور اسے مصر میں آئینی انقلاب کے خلاف فوجی بغاوت سے تعبیر کرتا ہے"۔

تیونس کی اپوزیشن نواز "جنرل ورکز یونین" نے بھی مصر میں منتخب صدر کا تختہ الٹنے کی فوجی کارروائی کو سراہتے ہوئے مصری فوج کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مصرمیں فوجی اقدام "عوامی امنگوں" اور "جائز خواہشات" کا عکاس ہے۔

تیونس کے حکمراں اتحاد میں شامل رہ نما اور قانون سازاسمبلی کے سربراہ مصطفیٰ بن جعفر نے بھی مصری فوج کے ملکی سیاست میں مداخلت کو سراہا ہے۔ انہوں نے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی معزولی کو ملکی تاریخ کا اہم ترین اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج نے عوامی رائے کے احترام کا مظاہرہ کیا ہے۔