.

خون خرابہ روکا جائے، ورنہ گھر میں اعتکاف بیٹھ جاوں گا: شیخ الازہر

عبوری حکومت 6 ماہ سے طویل نہ ہو، قومی مصالحتی کونسل بنائی جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ممتاز مذہبی اور علمی شخصیت شیخ الازہر احمدالطیب نے ایک مرتبہ پھر سیاسی کارکنوں اور پر امن مظاہرین کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی ذمہ داریاں یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ خون خرابہ نہ روکا گیا تو وہ گھر میں اعتکاف بیٹھ جائیں گے ،موجودہ عبوری حکومتی سیٹ اپ چھ ماہ سے طویل نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے اس امر کا اظہار پیر کی شام ملک میں بد امنی کی بگڑی ہوئی صورتحال کے حوالے سے جاری کیے گئے اپنے خصوصی بیان میں کیا ہے۔ شیخ الا زہر نے یہ بیان حالیہ ہفتے کے دوران قاہرہ میں ہونے والی سب سے بڑی قتل و غارت کے بعدجاری کیا جس میں مبینہ طور پر اخوان المسملون کے تقریباً اکاون حامی مظاہرین لقمہ اجل بنے ہیں۔

شیخ الازہر نے کہا کہ پر امن مظاہرین کی حفاظت حکومتی ذمہ داری ہے اور حکومت کو اسے ادا کرنا چاہیے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مصر میں حالیہ دنوں میں ہونے والی خون ریزی کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیجائے، تحقیقات کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو اور فتنہ پھیلنے نہ پائے.

شیخ الازہر نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کیا جائے ،کسی کا سیاسی استحصال نہ کیا جائے اور تمام طبقات ہوش کے ناخن لے اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے ۔

احمد الطیب نے عبوری حکومتی عہدیداروں سے دو ٹوک مطالبہ کیا کہ عبوری حکومتی سیٹ اپ کو چھ ماہ سے زیادہ طویل نہیں ہونا چاہیے اور اس دوران نئے منتخب سیٹ اپ کو انتقال اقتدار کے تمام مراحل مکمل کیے جانے چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر کسی فرد واحد کی ملکیت نہیں ہے اس لیے اس کے معاملات میں سبھی کو شرکت کا موقع ملنا چاہیے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام گروہوں اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل قومی مصالحتی کمیٹی دو دنوں کے اندر اندر قائم کی جائے جو مصری قوم کے اتحاد اور تحفظ کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ عبوری مدت کے دوران معاملات کو چلانے کے لیے پالیسی سازی کرے ۔

ڈاکٹر احمد الطیب نے اپنے جاری کردہ بیان میں یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ اگر ان کے یہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے اور ملک کو خانہ جنگی سے روکنے کےلیے تمام مکاتب نے ملک میں جاری خون خرابہ روکنے کےلیے اپنی ذمہ داریاں انجام نہ دیں تو وہ اس وقت تک اپنے گھر میں معتکف رہیں گے۔