.

قاہرہ:فوجی ہیڈ کوارٹرز کے باہر حملے میں 51 مظاہرین ہلاک

مصری فورسز پراخوان کے نہتے کارکنان پر اندھا دھند فائرنگ کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ری پبلکن گارڈ کے ہیڈکوارٹرز کے باہر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر حملے میں اکاون افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔

مصر کی وزارت صحت کے ایک اہلکار نے واقعے کی ابتدائی رپورٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ری پبلکن گارڈز کی عمارت کے باہر فائرنگ کے واقعے میں چونتیس افراد ہلاک اور تین سو زخمی ہوگئے ہیں۔بعد میں مزید سولہ افراد مارے گئے ہیں۔

مصری فوج اور اخوان المسلمون نے اس واقعہ کے بارے میں مختلف موقف پیش کیا ہے اور ایک دوسرے کو تشدد کے اس سنگین واقعے پر مورد الزام ٹھہرایا ہے۔فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ''سوموار کو علی الصباح مسلح دہشت گردوں کے ایک گروپ نے ری پبلکن گارڈ کی عمارت پر دھاوا بولنے اور فوجیوں اور پولیس پر حملے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ایک افسر مارا گیا''۔

ایک سکیورٹی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ ری پبلکن گارڈ کے ہیڈکوارٹرز پر حملے کے الزام میں اخوان المسلمون کے قریباً دو سو مسلح ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس سے قبل مصر کے سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ فوجی ہیڈکوارٹرز پر نامعلوم افراد کے حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب اخوان المسلمون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں پربراہ راست فائرنگ کی ہے اور انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجے میں پینتیس افراد مارے گئے ہیں۔بیان کے مطابق فوج اور پولیس نے نہتے مظاہرین کو نماز کے دوران اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی لیکن سادہ کپڑوں میں ملبوس بعض افراد نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کردی۔ اے ایف پی نے مظاہرے میں شامل ایک اور کارکن کے حوالے سے بتایا کہ فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے شیل داغے اور ہوائی فائرنگ کے ساتھ براہ راست گولیاں بھی چلائیں۔

اخوان المسلمون کے یہ کارکن فوج کے ہیڈکوارٹرز کے باہر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے۔سکیورٹی فورسز نے واقعے کے بعد علاقے میں میڈیا کے نمائندوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا ہے۔اخوان المسلمون کے کارکنان گذشتہ ہفتے منتخب صدر ڈاکٹر مرسی کی فوج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے قاہرہ اور دوسرے علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔