.

مصری فوج کے ہاتھوں منتخب صدر کی برطرفی ناقابل قبول ہے: ایران

سیاسی معاملات میں مسلح افواج کی مداخلت قبول نہیں کی جا سکتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے مصری فوج کے ہاتھوں ملک کے پہلے منتخب صدر کی برطرفی کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سیاسی معاملات میں مسلح افواج کی مداخلت کسی بھی طرح قبول نہیں کی جاسکتی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس عرقچی نے سوموار کو مصرمیں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ''سیاسی امورمیں مسلح افواج کی مداخلت خطرناک ہے''۔ان کے بہ قول:''مصر میں غیر ملکی ہاتھ کی کارفرمائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن مصری معاشرے کی تقسیم بہت ہی خطرناک ہے''۔

ترجمان نے یہ تو نہیں بتایا کہ مصر میں منتخب صدر کے خلاف فوجی انقلاب میں کونسا غیر ملکی ہاتھ کارفرما ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''مغرب اور صہیونی رجیم ایک مضبوط مصر نہیں چاہتے ہیں''۔

واضح رہے کہ امام خمینی کے 1979ء میں برپا کردہ انقلاب کے بعد ایران کے تین عشرے تک مصر کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے تھے اور گذشتہ سال جون میں ڈاکٹر محمد مرسی نے مصر کا صدر منتخب ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی تھی۔

انھوں نے گذشتہ سال اگست میں ایران کا دورہ کیا تھا اور تہران میں منعقدہ غیر وابستہ تحریک کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی تھی۔ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد کسی مصر صدر کا یہ پہلا دورہ تھا لیکن ان کی برطرف کے جو اسباب بیان کیے گئے ہیں،ان میں ایک ان کا دورہ ایران بھی تھا۔