.

یمن: نامعلوم افراد کے قاتلانہ حملے میں فوج کا سینئر کمانڈر جاں بحق

حضرموت القاعدہ کے خلاف جنگ میں یمنی فوج کے لیے تباہ کن محاذ بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سکیورٹی فورسز پرحملوں کے لیے مشہور ضلع حضرموت میں نامعلوم افراد کے قاتلانہ حملے میں فوج کا ایک سینیئرکمانڈرجاں بحق ہوگیا ہے۔

یمنی وزارت دفاع کی ویب سائٹ پرجاری کردہ ایک مختصر خبرمیں بتایا گیا ہے کہ آرمرڈ بریگیڈ کی آرٹیلری بٹالین نمبر37 کے کمانڈر کرنل احمد محمد السہیلی کو حضر موت میں ان کے گھرکے قریب اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جب وہ فوجی کیمپ کی جانب جا رہے تھے۔

بیان کے مطابق حملہ آور حضر موت میں کرنل سہیلی کی رہائش گاہ سے کوئی ایک سو میٹر دور ایک کارمیں گھات لگائے بیٹھے تھے۔ جیسے ہی کرنل سہیلی اپنی فوجی گاڑی پردفتر کی جانب نکلے تو انھوں نے موقع پا کران پرگولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ انھوں نے شدید زخمی ہونے کے باوجود مزاحمت کی اور اپنے پستول سے حملہ آوروں پر فائر کیا جس کے نتیجے میں ایک حملہ آور زخمی ہوگیا ہے۔

یمن کی سکیورٹی فورسز نے واقعے کے بعد حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے۔تاہم ابھی تک کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔

خیال رہے کہ حضرموت القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروپوں کے خلاف جنگ میں یمنی فوج کے لیے مہلک ترین محاذ ثابت ہوا ہے۔ لڑائی کے دوران سرکاری فوج کی پچاس فی صد ہلاکتیں اسی علاقے میں ہوئی ہیں۔سنہ 2011ء کے بعد سے اب تک یمن کی ملٹری انٹیلی جنس کے 88 اہم افسر شدت پسندوں کے حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ہلاکتیں حضر موت ہی میں ہوئی ہے۔

یمن میں ایک ہفتے کے دوران فوج کے اعلیٰ افسروں پر قاتلانہ حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ گذشتہ بدھ کو المکلا شہر میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پولیٹکل سیکیورٹی انٹیلی جنس کے کرنل ہاد سعید سالم عبیدان کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔