.

رمضان کا احترام نہ کرنے والےغیر ملکیوں کو سعودی عرب سے بے دخل کرنے کی دھمکی

غیر مسلموں کو عوامی مقامات پر کھلے عام کھانے پینے سے گریز کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے ماہ صیام کا احترام نہ کرنے اور کھلے عام کھانے پینے والے غیرمسلم غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کی دھمکی دی ہے۔

سعودی مملکت میں بدھ سے ماہ صیام کا آغاز ہو رہا ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے منگل کو وزارت داخلہ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے:''سعودی مملکت میں غیر مسلم مقیم رمضان کے احترام میں عوامی مقامات پر کھائیں اور پئیں نہیں اور وہ مسلمانوں کے جذبات کا احترام کریں''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''عوامی مقامات پر کھانا کھاتے ہوئے پکڑے جانے والے غیر ملکیوں کے خلاف تادیبی اقدامات کیے جائیں گے اور ان کے تحت انھیں ملازمتوں سے برطرف کیا جاسکتا ہے اور مملکت بدر بھی کیا جاسکتا ہے''۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ''کمپنیاں، کارپوریشنیں اور افراد اپنے اپنے ملازمین کو احترام رمضان سے متعلق قوانین سے آگاہ کریں''۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں اس وقت اسی لاکھ سے زیادہ غیرملکی تارکین وطن رہ رہے ہیں اور ان میں اکثریت ایشیائی باشندوں کی ہے۔سعودی عرب میں شرعی قوانین کی سختی سے پاسداری کی جاتی ہے اور ان کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو کڑی سزائیں دی جاتی ہیں۔

روزہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے تیسرا رکن ہے۔رمضان المبارک کے دوران مسلمان علی الصباح نماز فجر سے قبل سحری کرتے اورغروب آفتاب کے بعد روزہ افطار کرتے ہیں۔اس دوران انھیں کچھ بھی کھانے پینے کی اجازت نہیں ہے۔روزہ کی حالت میں مسلمانوں کو منکرات اور فضول کاموں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے اورانہیں تقویٰ کے حصول کے لیے بعض جائز امور سے بھی منع کیا گیا ہے۔