.

سعودی طالبات کی بیرونی جامعات میں غیر معمولی کامیابی

مقامی جامعات میں داخلہ نہ ہوا، شاہ فہد سکالر شپ پر باہر گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چار سعودی طالبات نے ہالینڈ سے اعلِی تعلیمی اسناد پا کر اپنی قابلیت اور علم دوستی کا لوہا منوا لیا ہے۔ طالبات عریج محجوب، رحمت الدولہ،تسنیم بنجار اور افنان کامل کو بہترین گریڈ پانے کے باوجود سعودی جامعات میں اپنی پسند کے مضامین میں داخلہ نہیں مل سکا تھا، جس کے بعد ان چاروں نے سعودی طلبہ و طالبات کے لیے 2007 میں شروع کیے گئے شاہ فہد تعلیمی سکالر شپ پروگرام کی بنیاد پر پہلے بیچ کے طورپراعلی تعلیم کے لیے بیرون ملک کی مختلف جامعات میں داخلہ لے لیا۔

واضح رہے کہ شاہ فہد سکالر شپ کے علاوہ اس وقت صرف شاہ عبداللہ سکالر شپ کے تحت ہالینڈ کی جامعات میں تقریبا ساڑھے چار سو طلبہ و طالبات تعلیم پا رہے ہیں۔ چھے برس قبل بیرون ملک داخلہ لینے والی طالبہ عریج کا اپنی اس غیر معمولی کامیابی کے بارے میں کہنا تھا: "میں قانون کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن ہائی سکول میں 97.50 فیصد نمبر لینے کے باوجود مجھے داخلہ نہ مل سکا، اس پر مایوسی ہوئی مگر ہالینڈ آئی تو قسمت مہربان ہو گئِ ۔"

تسنیم بنجار اورافنان کامل نے سکول کی سطح پر 95 فیصد نمبر حاصل کیے تھے اور دونوں بیرون ملک تعلیم کی خواہشمند تھیں۔ ان کے خواب کی تعبیر شاہ عبداللہ تعلیمی سکالر شپ کے ذریعے ممکن ہو گئی اور ان دونوں نے بھی ہالینڈ میں تعلیم کو موقع مل گیا۔

راحمت الدولہ کی غیر معمولی کامیابی کی کہانی صرف یہ فرق ہے جب اسے اپنے پسندیدہ مضمون میں داخلہ نہ ملا اور اس نے بیرون ملک داخلے کا سوچا تو ایک سال کے بچے کی ماں تھی۔ تاہم تعلیم کے شوق اور ہالینڈ کی جامعہ میں داخلے نےیہ مشکل آسان کر دی ۔ اب ان چاروں سعودی طالبات نے مقررہ مدت سے پہلے اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں مکمل کر کے دیگر سعودی طلبہ و طالبات کے لیے مثال قائم کر دی ہے۔