.

شام، متحارب دھڑے رمضان کے دوران لڑائی بند کر دیں

قاہرہ میں 51 مظاہرین کیسے مارے گئے، تحقیقات کرائی جائیں: بان کی مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے شام کے سرکاری وغیر سرکاری متحارب فریقین سے اپیل کی ہے کہ رمضان المبارک کے احترام کے پیش نظرکم از کم ایک ماہ کے لیے لڑائی بند کر دیں ۔ سیکرٹری جنرل نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک ہی روز میں مرسی کے مبینہ اکاون سے زائد حامی مظاہرین کے لقمہ اجل بنا دیے جانے پر سخت دل گرفتگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصری تنازعہ کے حوالے سے جہاں بھی ضروری ہوا اقوام متحدہ مدد کے لیے تیار ہو گا۔ بان کی مون نے شام میں جاری دوطرفہ لڑائی کے بارے میں جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ وہ باقاعدہ فوج کے ہر یونٹ اور عسکری گروہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف اسلحہ کا استعمال ترک کر دیں اور شام میں امن بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔۔

یاد رہے اسد رجیم کے ہوتے ہوئے صرف سوا دو برسوں کے دوران نوے ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جن کی اکثریت عام لو گوں پر مشتمل تھی۔ سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ دیر پا امن کا قیام صرف سنجیدہ مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔اس لیے شامی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہراس متحارب دھڑے سےامن کا مطالبہ کر سکتے ہیں جو عوام کے لیے لڑنے کا دعوی رکھتا ہے۔ انہوں نے اس دوطرفہ لڑائی کے فریقوں پر زور دیا کہ دونوں طرف سے زیر حراست افراد کو رہا کیا جائے۔

دریں اثنا سیکرٹری جنرل کے ترجمان نرسکی نےکہا کہ قاہرہ کے فوجی مرکز کے باہر مظاہرین کے قتل کی بان کی مون نے مذ مت کی ہے اورکہا کہ ایسےمزید واقعات کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقداما ت کیے جائیں۔ انہوں نے تمام متعلق فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کریں اور مصری افواج طاقت کا استعمال کرتے ہوئے عالمی سطح پر طے شدہ اصولوں کی پاسداری کریں اور مظاہرین بھی پر امن رہیں۔ نیز سیاسی جماعتیں تعمیری اور پر امن انداز میں قومی اتفاق رائے کا اہتمام کریں۔