.

مصری معاملات پر واشنگٹن کی خاموشی ہدف تنقید

صدر مرسی کا امریکا کی ثالثی ماننے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے جمہوری طور پر منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی معزولی کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے لیکن اب تک امریکی صدر باراک اوباما اور نہ ہی ان کے وزیر خارجہ جان کیری نے ذاتی طور پر اس سلسلے میں کوئی موقف ظاہر کیا ہے۔ واشنگٹن نے یہ معاملہ سرکاری ترجمانوں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہی ان واقعات کے سلسلے میں امریکی نقطہ نظر بیان کریں، ابتک سامنے والے بیانات سے واضح نہیں ہو سکا کہ امریکا، مصر میں کیا کرنا چاہتا ہے۔

یہ امر باعث دلچپسی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے مصر میں ہونے والی پیش رفت کو 'انقلاب' نہیں گردانا ہے۔ وہ اس صورتحال کو 'عوامی انقلاب' کہنے سے بھی گریزاں ہیں۔ مصری صورتحال کے بارے میں امریکا کی گو مگو کی کیفیت کی وجہ سے واشنگٹن کی خارجہ پالیسی دنیا بھر میں ہدف تنقید بنی ہوئی ہے۔ امریکا پر الزام عاید کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنا روایتی قائدانہ کردار ترک کرتا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان جے کارنی مصری صورتحال کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: " فوری طور پر کوئی موقف اختیار کرنا ہمارے مفاد میں نہیں۔ اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے مصری عوام جمہوریت کی جانب سفر میں ان کی مدد ہمارا ہدف ہے۔"

امریکی انتظامیہ مصری واقعات کی حقیقی تشخیص سے بھی گریزاں ہے کیونکہ 'انقلاب' کی اصطلاح کے کئی مفہوم نکالے جا سکتے ہیں۔ صورتحال کی تشخیص کا منتطقی نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ امریکا اپنے جمہوری اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے مصر میں فوجی مداخلت کی پاداش میں قاہرہ کی فوجی امداد بند کر دے، جو واشنگٹن فی الوقت کرنا نہیں چاہتا۔

امریکی کانگریس کے ارکان بھی مصری صورتحال کی تشخیص پر اختلافات کا شکار ہیں، تاہم ان اختلافی نقطہ نظر کا سیاسی جماعتوں کے روایتی نقطہ نظر پر کوئی اثر نظر نہیں آتا۔

امریکی سینٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے جان مکین، جو سابق صدارتی امیدوار بھی رہ چکے ہیں، نے 'فاکس نیوز' کو انٹرویو دیتے ہوئے مصری صورتحال کو 'انقلاب' سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "دو برسوں میں یہ دوسرا موقع ہے کہ مصر میں فوج نے مداخلت کی ہے۔ یہ امریکی انتظامیہ کی کمزوری پر دلالت کرتی ہے کیونکہ ہم نے انہیں [مصری فوج] پر زور دیا تھا کہ وہ ایسا کرنے سے باز رہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں قاہرہ کی فوجی امداد روک دینی چاہئے تاوقتیکہ مصر میں نئے دستور کے تحت آزاد اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے۔"

ڈیموکریٹ رکن کانگریس اور انٹلیجنس کمیٹی کے ڈائریکٹر مائیک روجرز نے مصری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مصری فوج نے ملک کی متعدل اور لبرل جماعتوں کے مطالبے پر کارروائی کی، انہی جماعتوں نے فوج سے مدد بھیجنے کی درخواست کی۔ "ہمیں مصر کو استحکام کی راہ پر ڈالنے کے لئے ان حلقوں کی کوششوں میں ان کا ساتھ دینا چاہئے۔"

اخباری اطلاعات کے مطابق امریکا نے موجودہ صورتحال میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے صدر مرسی پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی کابینہ میں تبدیلیاں کریں اور اپنے اختیارات کو کم کریں، تاہم انہوں نے واشنگٹن کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔

امریکی مرکز برائے ترقی سے وابستہ نامور محقق بریان کاٹولیس کے بقول مصر کی سر زمین پر رونما ہونے والے واقعات ہی فیصلہ ساز کردار کریں گے، یہاں امریکا کچھ نہیں کر پائے گا۔