.

ایران میں ہر شہری کے لیے ای میل ایڈریس بنانا لازمی قرار

عوام حکومتی اداروں کے ساتھ صرف ای میل سے رابطہ کر یں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اپنے تمام شہریوں کو شناختی کارڈ ز کی طرزپر ای مییل ایڈریس کی ہدائت کر دی گئی ہے،تاکہ ریاستی مشینری اور عوام کے درمیان رابطوں کو موئثر بنایا جا سکے۔

اس امر کا اظہار ایرانی وزیر مواصلات حسن نامی نے کیا ہے۔ تاہم وزیر مواصلات نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ اقدام ایران میں انٹرنیٹ سروسز کو ایرانی قانوں کے تابع کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ایران کی قامت پرست قیادت مغربی اور سیکو لر کلچر کی راہ روک سکے یا اس کی وجہ کچھ اور ہے۔

یہ ایسے ماحول میں کیا جا رہا ہے جب نسبتا اعتدال پسند نو منتخب صدر حسن روحاںی اگلے ہی ماہ اپنا منصب سنبھالنے والے ہیں یہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ حکومت انٹرنیٹ سروسز کی فلٹریشن اور اپنے عوام کیذاتی زندگیوں میں کم سے کم مداخلت کرے گی۔

یاد رہے ایران کی تقریبا نصف آبادی یعنی 75 ملین شہری انٹر نیٹ استعمال کرتے ہے۔ ایرانی وزیر نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا ہر شہری صرف سرکاری طور پر جاری کیا گیا ای میل ایڈریس استعمال کر سکے گا یا اپنا نجی میل ایڈریس ہی کافی ہو گا۔

تاہم ایرانی وزیر مواصلات نے یہ ضرور بتایا ہے کہ سرکاری عداروں کے ساتھ راطوں کے لیے صرف سرکاری میل ایڈریس ہی استعمال ہو سکیں گے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکومتی اداروں کے باہمی اورعام لوگوں سے رابطے ای میل کے ذریعے ہوا کریں گے۔