.

ابو قتادہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ ایک ہفتے کے لیے ملتوی

برطانیہ بدری کے بعد فلسطینی نژاد عالم کے خلاف اردن میں مقدمے کی ازسرنو سماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی ایک فوجی عدالت نے برطانیہ بدر ہوکر واپس آنے والے عالم دین ابو قتادہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آیندہ ہفتے تک ملتوی کردیا ہے۔

ابو قتادہ کے وکیل تیسیر دیاب نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ''اسٹیٹ سکیورٹی عدالت نے ان کے موکل کی ضمانت پر رہائی سے متعلق درخواست پر فیصلہ آیندہ ہفتے تک ملتوی کردیا ہے لیکن اس نے اس کی سماعت کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی ہے اور صرف یہ کہا ہے کہ وہ اس کا جائزہ لینا چاہتی ہے''۔

تریپن سالہ ابو قتادہ کو اسی ہفتے برطانیہ نے اردن کے حوالے کیا ہے اور اردنی عدالت نے اتوار کو ان کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں کی سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی تھی۔

انھیں پندرہ دن کے ریمانڈ پر اردن کی انتہائی سکیورٹی والی جیل موقار میں بھیج دیا گیا تھا۔اس جیل میں اس وقت قریباً گیارہ سو قیدی بند ہیں۔ان میں زیادہ تر اسلامی جنگجو یا اسلامی جماعتوں کے کارکنان ہیں جنھیں دہشت گردی کے مختلف الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

ابوقتادہ فلسطینی نژاد اردنی عالم دین ہیں۔اردن میں 1999ء اور 2000ء میں ان کے خلاف دہشت گردی کی سازشوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت ان کی عدم موجودگی میں فرد جرم عاید کی گئی تھی اور انھیں موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

اردن کی ایک عدالت نے ابوقتادہ کو 1999ء میں دہشت گردی کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں قصور وار قراردے کر سزائے موت سنائی تھی لیکن بعد میں ان کی سزائے موت عمر قید بامشقت میں تبدیل کردی گئی تھی۔اب ان کی اردن واپسی پران کے خلاف یہ مقدمہ دوبارہ چلایا جائے گا۔

واضح رہے کہ اردن کی پارلیمان نے گذشتہ ماہ برطانیہ کے ساتھ مشتبہ افراد کی بے دخلی کے معاہدے کی منظوری دی تھی۔اس معاہدے کے تحت برطانیہ نے اردن کو مطلوب راسخ العقیدہ عالم دین ابو قتادہ کو بے دخل کردیا تھا۔اس معاہدے میں ابو قتادہ اور دوسرے مطلوب افراد کا خاص طور پر نام تو نہیں لیا گیا لیکن وہ سب اس میں شامل ہیں۔

ابوقتادہ گذشتہ ایک عشرے کے دوران برطانیہ بدری سے بچنے کے لیے قانونی جنگ لڑتے رہے ہیں۔اس دوران انھیں متعدد مرتبہ جیل کی ہوا کھانا پڑی لیکن اس کے باوجود انھیں بالآخر برطانیہ بدر ہونا پڑا ہے۔ان کی بیوی اور پانچ بچے بھی اب لندن سے عمان واپس آنے کی تیاری کررہے ہیں۔