.

پیرس میں قطری شہزادے کے ملکیتی تاریخی مینشن میں آتشزدگی

عالمی ثقافتی ورثے میں شامل عمارت کو آگ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بدھ کو علی الصباح ایک قطری شہزادے کے ملکیتی سترھویں صدی کے مینشن میں آگ بھڑک اٹھی جس پر آگ بجھانے والے عملے نے چھے گھنٹے کی تگ ودو کے بعد قابو پالیا ہے۔

فرانسیسی فائر سروس کے لیفٹیننٹ کرنل پاسکل لی ٹیسٹو نے بتایا ہے کہ ''عمارت کی چھت میں رات قریباً ڈیڑھ بجے آگ لگی تھی اور یہ تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی کیونکہ اس وقت مینشن تعمیر ومرمت کی وجہ سے خالی ہے''۔

ان کے بہ قول عمارت کا ڈھانچا کمزور ہوچکا ہے جس کی وجہ سے آگ بجھانے میں دشواری پیش آئی ہے۔انھوں نے کہا کہ اب ہم آتشزدگی سے مینشن کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ بہت احتیاط کے باوجود دیواروں پر مصوری کے نمونوں کو دھویں اور آگ کے علاوہ پانی لگنے سے بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔مینشن میں آتشزدگی کے بعد اس کے ہمساَئے میں واقع دس بارہ مکانوں کو خالی کرالیا گیا تھا۔

پیرس کے وسط میں واقع لیمبرٹ ہوٹل کو قطری شہزادے عبداللہ بن عبداللہ آل ثانی نے 2007ء میں روتھ چائیلڈ خاندان سے ساڑھے آٹھ کروڑ ڈالرز کے عوض خرید کیا تھا۔وہ قطر کے نئے امیر کے چچا ہیں۔

شہزادہ عبداللہ نے اس ہوٹل کی تعمیر ومرمت اور تزئین وآرایش کی کوشش کی تھی جس پر ثقافتی ورثے کا تحفظ کرنے والے خدائی خدمت گاروں نے شور مچانا شروع کردیا اورانھوں نے قطری مالک کے خلاف ایک عدالت سے رجوع کر لیا اور وہاں یہ موقف اختیار کیا کہ ہوٹل کے نئے مالک اس اہم ثقافتی ورثے کو تباہ کرسکتے ہیں۔

فرانسیسی عدالت نے پہلے تو قطری شہزادے کو مینشن کی تزئین وآرائش سے روک دیا۔ لیکن یہ تنازعہ جنوری 2010ء میں کہیں جا کر حتمی طور پر طے ہوا تھا۔تب فرانسیسی حکومت کی نگرانی میں مذاکرات کے نتیجے میں قطری شہزادے نے ''تاریخی پیرس کی ثقافتی تنظیم '' کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔اس کے تحت فرانسیسی تنظیم قطری شہزادے کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے دستبردار ہوگئی تھی۔

یہ مینشن دریائے سین کے کنارے واقع ہے اور یہ سترھویں صدی کے فرانسیسی فن تعمیر کا عظیم نمونہ ہے۔اسے اس کے فن تعمیر کی بدولت عالمی ثقافتی ورثے میں بھی شامل کر لیا گیا تھا۔

یادرہے کہ لیمبرٹ ہوٹل ایک مال دار شخص نیکولس لیمبرٹ کے لیے 1640ء تعمیر کیا گیا تھا۔اس کو ماہر تعمیرات لوئی وایو نے ڈیزائن کیا تھا۔اس ہوٹل میں گذشتہ ساڑھے تین صدیوں کے دوران متعدد معروف عالمی شخصیات قیام پذیر رہی تھیں۔اٹھارھویں صدی کے معروف فلاسفر وولٹیئر نے اپنی محبوبہ کے ساتھ یہیں قیام کیا تھا۔اس کے ایک صدی بعد پولینڈ کے جلاوطنوں کا بھی یہی ہوٹل سیاسی ہیڈکوارٹرز رہا تھا۔