.

امریکی محکمہ دفاع مصر کو چار ایف 16 جنگی طیارے دے گا

امریکا میں منتخب صدر مرسی کا تختہ الٹنے کے اقدام کو فوجی بغاوت قرار دینے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا مصر میں حالیہ فوجی انقلاب اور منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی برطرفی کے باوجود آیندہ چند ہفتوں میں مصری فوج کو چار ایف سولہ جنگی طیارے مہیا کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔

ایک امریکی عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ مصری فوج کے ہاتھوں ملک کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر کی برطرفی کے باوجود امریکا کی جانب سے دی جانے والی فوجی امداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

تاہم امریکی کانگریس کے بعض ارکان نے مصر میں حالیہ فوجی انقلاب کے بعد اس کی فوجی امداد معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور امریکا میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے اقدام کو فوجی بغاوت قرار دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو قانون کے تحت اوباما انتظامیہ مصری فوج کی امداد بند کرنے کی پابند ہوگی۔

واضح رہے کہ مصر اسرائیل کے بعد امریکا سے سب سے زیادہ امداد وصول پانے والا دوسرا ملک ہے۔اسے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد سے ہر سال ڈیڑھ ارب ڈالرز کی امداد دی جاتی ہے اور ایف سولہ جنگی طیارے بھی اسی امدادی پیکج کا حصہ ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ مصر کو یہ چار ایف سولہ طیاروں اگست میں دیے جائیں گے۔ایک اور عہدے دار کے مطابق مصری فوج کو ایف سولہ طیارے مہیا کرنے کے منصوبے میں فی الوقت کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

امریکا مذکورہ بالا امدادی پیکج کے تحت ستمبر میں ختم ہونے والے مالی سال 2013ء کے لیے مصر کو پہلے ہی پینسٹھ کروڑ ڈالرز فوجی امداد کی شکل میں دے چکا ہے۔اس کے تحت آٹھ ایف سولہ طیاروں کی دوسری کھیپ دسمبر میں مصر کے حوالے کی جائے گی۔

دوسری جانب برطرف صدر محمد مرسی کے اسلامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں حامی امریکا پر یہ الزام عاید کررہے ہیں کہ اس نے منتخب صدر کے خلاف فوجی بغاوت برپا ہونے کی اجازت دی ہے۔

لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ لاکھوں مصری حکومت میں تبدیلی چاہتے تھے۔البتہ امریکا مرسی کی رخصتی کو کوئی نام دینے کا فیصلہ کرنے کے لیے انتظار کرے گا۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ''ہم اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ حکام موجودہ صورت حال سے کیسے نمٹتے ہیں اور اس کے بارے میں کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں''۔