.

لہو رنگ تاریکی میں ڈوبا مصر اور رمضان کی آمد

فانوس اور قندیلیں روشن کرنے کی روائت بھی ماند پڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماہِ صیام کا آغاز امت مسلمہ کے لیے ڈھیروں خوشیاں،رحمتیں اور برکتیں لیکر آتا ہے اور دنیا کے ہر خطے کے مسلمان سحر و افطار میں مل بیٹھ کر ان خوشیوں کو دوبالا کرتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ قاہرہ کے رہائشی علی محمد نے ماہ رمضان کے دوران گلی میں رنگ برنگی روشنیاں بکھیرنے والی اپنی روائتی قندیلوں کو چمکانے اور سجانے کے بجائے انہیں اتارنا شروع کردیا ہے۔

وہ گزشتہ ہفتے مصر کے پہلے نو منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے نتیجے میں ہونے والی افراتفری اور خون خرابے کے باعث رمضان کی آمد پر بھی اس سال جشن منانے کے حق میں نہیں ہے۔ یہ کیفیت صرف علی محمد کی نہیں ہے، مصر کے تقریبا ہر قریے اور کوچے میں یہی سماں ہے۔ اسی لیے باون سالہ مکینک محمد سیڑھی لگا کر رنگین شیشوں سے بنے دلکش فانوس اتارتے ہوئے اپنے ہاتھ عرش کی طرف پھیلا کر دعا کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ :" ہمارے مصر! مصر کو کیا ہو گیا ہے ۔ اے میرے رب ہماری مدد فرما۔"

رمضان کی آمد سے چند روز پہلے ہی عبدین کا رہائشی محمد پچھلے دس برسوں سے اپنے محلے کو روشنیوں سے سجا کرمنور کرتا رہا ہے ۔مگر اس سال مرسی کے حامی و مخالف دھڑوں اور فوج کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ہونے والی درجنوں ہلاکتوں نے اسے بھی رنجیدہ کر دیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ "پچھلے دنوں میں نے ٹی وی میں تحریر سکوائر اور ربی ادعویہ مسجد میں مظاہرین کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ۔" چند گھنٹوں بعد میں دونوں اطراف کے لوگوں کو آپس میں گتھم گتھا ہوتے ہوئے دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اپنی زندگی میں مصری مسلمانوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھوں گا، کیوں؟ ہم سب مسلمان ہیں جو رب واحد کے سامنے جھکتے ہیں۔"

قاہرہ کی طرح مصر کے دیگر بھی شہر اسی نا امیدی کا شکار ہیں، جہاں مظاہرین کے احتجاجی کیمپ اور ہر لمحے بڑھتے ہوئے حفاظتی اقدامات نے عام شہریوں کی نقل و حرکت کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

رمضان کے مہینے میں روائتی قندیلیں فروخت کرنے والے ٹھیلے بھی ماضی سے بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ دن بھر کے روزے کی تھکاوٹ دور کرنے اور طاقت سے بھرپور شہد اور میوہ جات سے مزین مٹھائیاں فروخت کرتی دکانوں میں بھی پہلے کی نسبت کمی واقع ہوئی ہے۔ قاہرہ کے بہت سے قہوہ خانے یا تو بند ہوگئے ہیں یا اپنی رونق کھو بیٹھے ہیں۔

مصری اپنے خوش اخلاق ہونے اور اپنے عرب بھائیوں کے ساتھ اچھا وقت گزارنے کی شہرت رکھنے پر فخر کرتے ہیں۔ پینتالیس سالہ گھریلو خاتون عزہ محمود نے ایک مشہور محاورے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ "اگر آپ نے کبھی مصر میں رمضان نہیں منایا تو آپ نے کبھی ماہِ رمضان ہی نہیں منایا۔"

ماہِ رمضان اپنے عزیز و اقارب کو اچھے پیغام اور دعائیں دینے کا روایتی ماہ ہے، مگر جب سے مصر میں حالات ناگوار صورت اختیار کر گئے ہیں۔ ساٹھ سالہ آزاد خیال رضاکار اور گھریلو خاتون مونا احمد لڑائی میں مصروف سیاسی فریقوں کے لیے کوئی سخت لفظ نہ ملا تو انہوں نے کہا کہ "میں امید کرتی ہوں کہ یہ سب مر جائیں اور جہنم رسید ہو جائیں۔"

اخوان کے چھبیس سالہ حامی اور سکول کی کتب چھاپنے والی ایک کمپنی کے ملازم ابراہیم خان کی رمضان کی بد دعا کا شکار انکے سیاسی حریف بنے۔ انہوں نے کہا " خدا مرسی کی قانونی حکومت کے خلاف سازش رچانے والوں کو سزا دے۔"

بائیس سالہ طلبہ یاسمین محمد پکار رہی تھی " اے اللہ ہمارا آپکےعلاوہ کوئی نہیں ہے اور ہم آپکے علاوہ کسی سے رجوع نہیں کرتے۔" اپنے نازک مگر بجھے ہوئے فانوس اور قندیلیں اکٹھی کرتے ہوئے علی محمد نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مبارک مہینہ کچھ بہتری ضرور لائے گا، اپنے ساتھ امن لائے گا اور مصر کی روائتی قندیلیں اور فانوس پھر سے جگ مگ کرنے لگیں گے۔